خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 165

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو اُس وقت حضرت انسؓ کی عمر کل دس سال کی کی تھی۔دس سال وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے اور جب میں سال کے ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے مگر خود حضرت انسؓ کی وفات ایک سو دس سال میں جاکر ہوئی ہے گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے نوے سال بعد تک انہیں لوگوں کو اسلام کی تعلیم سکھانے کا موقع ملا۔بوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت بہت نو جوان ہونے اور بہت لمبی عمر پانے کے یہ سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی تھے۔اب دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اِس سلسلہ کو کہاں تک ممتد کر دیا مگر بہر حال اس سلسلہ کا امتدادنو جوانوں کے ذریعہ ہی ہوا۔اگر ستر اسی سال کے بوڑھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتے تو وہ کہاں کام کر سکتے تھے۔اوّل تو اُن کی حالتوں کا سُدھرنا ہی مشکل تھا اور اگر وہ درست بھی ہو جاتے تو اُن میں سے اکثر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہو جاتے اور اگر چند لوگ زندہ بھی رہتے تو پانچ سات سال کے بعد وہ بھی ختم ہو جاتے اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ رہتا جو اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف و آگاہ ہوتا۔پس ابتدائی زمانہ میں نوجوانوں کا اسلام میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت تھی اور یہی وہ تدبیر تھی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اُس نے نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کر دی جس نے آپ کی شاگردی میں رہ کر آپ سے تعلیم حاصل کی حتی کہ بعض نے تو اپنا بچپن آپ کی نگرانی میں ہی گزارا۔جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کہ وہ گیارہ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کا تربیت یافتہ گروہ دُنیا میں موجود رہا اور اس نے اپنی تعلیم اور تربیت سے ایک اور نئی اور اعلی درجہ کی جماعت پیدا کر دی جوی ان کی وفات کے بعد اسلام کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے رہی۔پس خدام الاحمدیہ کا کام کوئی معمولی کام نہیں۔یہ نہایت ہی اہمیت رکھنے والا کام ہے اور در حقیقت خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔مگر ہماری فوج وہ نہیں جس کے ہاتھوں میں بندوقیں یا تلوار میں ہوں کی