خطبات محمود (جلد 20) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ سال ۱۹۳۹ء یہ بھی تھا کہ شاید آپ اسے منسوخ کرانے کے لئے آئیں۔تو حافظہ پر زور دینے کی وجہ سے پرانے زمانہ میں ایسے ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جو لاکھوں شعر زبانی یا د رکھتے تھے۔کہتے ہیں امام شافعی نے پانچ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔بوجہ حافظہ پر عام طور پر زور ینے کے اس زمانہ میں لوگوں کے حافظے بہت تیز ہوتے تھے۔ایک دو دفعہ ہی بات سُن کر یاد کر لیتے تھے مگر اب کتابوں کے عام ہو جانے کی وجہ سے حافظہ کی تیزی کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو منی طور پر اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ جب تک قوم کی عام رغبت اس طرف نہ ہوا ایک دو کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پہلے زمانہ میں حافظہ کے ذریعہ لوگ عالم ہوتے تھے مگر آجکل کتابیں پڑھنے سے ہوتے ہیں۔اس لئے جماعت کے ہر فرد کو کچھ نہ کچھ لکھنا پڑھنا آنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ بدر کی جنگ میں جو کفار قید ہوئے ان میں سے جو فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے آپ نے اُن کے لئے یہ شرط لگائی کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اور جب اُنہوں نے سکھا دیا تو اُن کو چھوڑ دیا ہے تو خدام الاحمدیہ کے تعلیم کے عام کرنے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اگر وہ یہ کر لیں تو جماعت کے اخلاق بھی بلند ہو سکتے ہیں، پڑھنا آتا ہو تو وہ حضرت صاحب کی کتب بھی پڑھ سکیں گے ، دینی کتب کا مطالعہ کریں گے ، تصوف کی کوئی کتاب پڑھیں گے اور اُن کا وقت بھی ضائع نہ ہو گا۔کتابیں پڑھنے سے ان کا ذہن صیقل ہوگا اور پھر اخلاق بلند ہوں گے۔یہ نو چیزیں ہیں جو میں خدام الاحمدیہ کے لئے پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ان کو خصوصیت سے سامنے رکھ کر وہ کام کریں گے اور ان کو اپنا قریبی مقصد قرار دیں گے اور پھر اس کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ کچھ اور مضامین بھی ہیں مگر اب چونکہ کافی وقت ہو گیا ہے اس لئے اسی پر بس کرتا ہوں۔اسی ہفتہ میں خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے ایک درخواست آئی تھی کہ وہ تفصیلی ہدایات کے لئے مجھے ملنا چاہتے ہیں وہ مل کر مجھ سے ہدایات لے سکتے ہیں۔عملی سکیم اور کام کرنے کا طریق یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جو صرف اُن سے ہی تعلق رکھتا ہے۔