خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۹ء آدمی سفر کر رہا ہو ، کشتی ڈوب جائے تو وہ اپنی جان بچا سکتا ہے یا کنارے پر بیٹھا کوئی کام کر رہائی ہو اور کوئی ڈوبنے لگے تو اُسے بچا سکتا ہے۔تو تیر نا صرف اس زمانہ کے لئے کھیل ہی نہیں بلکہ آئندہ زندگی میں اسے فائدہ دینے والی چیز ہے۔وہ بحری فوج میں آسانی سے داخل ہو سکتا ہے، جہاز رانی میں اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔گویا یہ تمام عمر میں اسے فائدہ پہنچانے والا ہنر ہے اور اس لئے ایسی کھیل کی بجائے جو صرف بچپن میں کھیل کے ہی کام آئے یہ ایک ایسی کی کھیل ہے جو ساری عمر اس کے کام آ سکتی ہے۔اسی طرح تیراندازی ہے، غلیل چلانا ہے اس سے ورزش بھی ہوتی ہے، بچے شکار کے لئے باہر جاتے ہیں اور دور نکل جاتے ہیں اور اس طرح کی تازہ ہوا بھی کھاتے ہیں۔بدن بھی مضبوط ہوتا ہے، غلیل چلانے سے جسم میں طاقت آتی ہے۔اس کے مقابلے کرائے جا سکتے ہیں کہ کون زیادہ دور تیر پھینکتا ہے یا غلیلہ پھینک سکتا ہے۔غلیل جتنی زیادہ سخت ہو مگر لچکنے والی ہو اتنا ہی غلیلہ زیادہ دُور جاتا ہے۔مگر اس لچکانے کے لئے طاقت ضروری ہوتی ہے جتنا کوئی زیادہ مضبوط ہو اُتنا ہی زیادہ دُور غلیلہ پھینک سکتا ہے کیونکہ وہ کی اتنا ہی غلیل کو زیادہ کھینچ کر لچکا سکتا ہے۔یہ چیز ورزش کا بھی موجب ہے۔شکار کے لئے زیادہ چلنا پڑتا ہے، تازہ ہوا کھانے کا بھی موقع ملتا ہے اور پھر یہ ساری عمر کام آتی ہے۔غلیل چلانے والا بندوق کا نشانہ بندوق پکڑتے ہی سیکھ سکتا ہے۔ہم بچپن میں غلیل چلایا کرتے تھے اور مجھے یاد نہیں کہ کسی نے کبھی مجھے بندوق کا نشانہ سکھایا ہو۔پہلی دفعہ شیخ عبدالرحیم صاحب کہیں سے بندوق مانگ کر لائے۔میں اُس وقت بہت چھوٹا تھا اور وہ پہلا نشانہ تھا اُنہوں نے پیچھے سے پکڑ رکھا اور میں نے بندوق چلائی۔گومیں خود بھی گر پڑا مگر جس جانور کا نشا نہ کیا تھا وہ بھی گر گیا۔اِدھر میں گرا اور اُدھر وہ۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جو سپاہیوں میں بھرتی ہوتے ہیں وہ مدتوں اس وجہ سے افسروں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں کہ ٹھیک نشانہ نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ بچپن میں کوئی ایسا کام نہیں کیا ہوتا کہ نشانہ کی مشق ہو سکے۔اگر بچپن میں تیر یا غلیلہ چلانے کی مشق ہو تو جب بھی بندوق چلانے لگیں فوراً نشانہ درست ہوسکتا ہے اور پھر اس سے بچپن میں صحت بھی درست ہو سکتی ہے۔اچھی ہوا سے تر و تازگی بھی حاصل کر سکتے ہیں، ذہنوں میں بھی روشنی پیدا ہو سکتی ہے اور پھر بڑے ہو کر یہی کھیل ان کے لئے ایک ہنر ثابت ہو سکتا ہے۔