خطبات محمود (جلد 20) — Page 127
خطبات محمود ۱۲۷ سال ۱۹۳۹ء ہاں کچھ چنے کھائے تھے۔وہ کہنے لگے آپ کا معدہ کمزور ہے ایسی ثقیل چیز آپ کو ہضم نہیں ہوسکتی پیٹ کا درد اسی وجہ سے ہے۔آپ ایسی چیزیں نہ کھایا کریں۔پھر ایک نسخہ لکھ کر اُسے دے دیا اور واپس آگئے۔جب گھر پہ پہنچے تو لڑکا کہنے لگا کہ مجھے اجازت دیجئے میں اب واپس جانا چاہتا ہوں۔وہ کہنے لگے ہیں! اتنی جلدی تم طب پڑھنے کے لئے آئے تھے۔وہ کہنے لگا بس طب میں نے سیکھ لی ہے۔ذہین آدمی کے لئے تو کوئی وقت ہی نہیں ہوتی۔وہ کہنے لگے میں نے تو تمہیں ابھی ایک سبق بھی نہیں دیا۔تم نے طب کہاں سے سیکھ لی ؟ وہ کہنے لگا ذہین شخص کو بھلا سبقوں کی کیا ضرورت ہے؟ میں خدا کے فضل سے ذہین ہوں میں نے تمام طب سیکھ لی ہے۔اُنہوں نے بہتیر اسمجھایا کہ یہاں رہو اور مجھ سے باقاعدہ طب پڑھو مگر وہ نہ مانا اور واپس آ گیا۔لوگ اُسے دیکھ کر بڑے متعجب ہوئے اور کہنے لگے اتنی جلدی آگئے ؟ وہ کہنے لگا ذہین آدمی کے لئے طب سیکھنا کوئی مشکل امر نہیں۔میں تو جاتے ہی تمام طب سیکھ گیا۔خیر اُنہی دنوں کی کوئی رئیس بیمار ہو گیا اور اُس نے اُس لڑکے کو علاج کے لئے بلایا یہ گیا نبض دیکھی ، حالات پوچھے اور پھر کہنے لگا آپ رئیس آدمی ہیں بھلا آپ کو ایسی چیزیں کہاں ہضم ہو سکتی ہیں۔اچھا بتائیے کیا آپ نے کل گھوڑے کی زین تو نہیں کھائی ؟ وہ کہنے لگا کیسی نامعقول باتیں کرتے ہو گھوڑے کی زین بھی کوئی کھایا کرتا ہے؟ وہ کہنے لگا آپ مانیں یا نہ مانیں کھائی آپ نے گھوڑے کی زمین ہی ہے۔نوکروں نے جو دیکھا کہ یہ ہمارے آقا کی ہتک کر رہا ہے تو اُنہوں نے اُسے خوب پیٹا۔وہ مارکھاتا جائے اور کہتا جائے کہ تشخیص تو میں نے ٹھیک کی ہے۔اب تم میری بات نہ مانو تو میں کیا کروں؟ آخر انہوں نے پوچھا تیرا اس سے مطلب کیا ہے؟ اس نے کی جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ جس طبیب سے میں نے طب سیکھی ہے وہ ایک دن مجھے ساتھ لے کر ایک مریض دیکھنے کے لئے گئے میں ان کی حرکات کو خوب تاڑتا رہا۔میں نے دیکھا کہ حکیم صاحب نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی اور چند چنے کے دانے جو چار پائی کے نیچے گرے ہوئے تھے وہ اُٹھالئے اور پہلے تو ان دانوں سے کھیلتے رہے پھر مریض سے کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے چنے کھائے ہیں اور اس نے اقرار کیا کہ واقع میں میں نے چنے کھائے ہیں۔میں اس سے فوراً سمجھ گیا کہ جب کسی مریض کو دیکھنے کے لئے جانا پڑے تو جاتے ہی اس کی چار پائی کے نیچے