خطبات محمود (جلد 20) — Page 116
خطبات محمود 117 سال ۱۹۳۹ء جب وہ خود اُٹھا ئیں گے تو پھینکنے والوں کو بھی شرم آئے گی اور جب عورتیں دیکھیں گی کہ وہ جو تی گند گلی میں پھینکتی ہیں وہ ان کے باپ یا بھائی یا بیٹے کو اٹھانی پڑتی ہے تو وہ سمجھیں گی یہ بُرا کام ہے اور وہ اس سے باز رہیں گی۔لوگ ہزار یا پانچ سو یا کم و بیش روپیہ لگا کر مکان بنا لیتے ہیں مگر یہ نہیں کرتے کہ چند فٹ کا ایک چھوٹا سا گڑھا گلی میں بنوالیں اور اس گلی کے سب مکانوں والے اسی میں گندی چیزیں پھینکیں اور پھر صفائی کرنے والے آ کر وہیں سے لے جائیں۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے سب سڑکوں پر ایسے گڑھے ہوتے ہیں جن کے اوپر ڈھکنے پڑے رہتے ہیں۔لوگ اس میں گندی چیزیں پھینک جاتے ہیں اور سرکاری آدمی آ کر اُٹھاتے جاتے ہیں۔اگر یہ طریق یہاں بھی اختیار کر لیا جائے تو بہت مفید ہوگا۔اگر ہر گلی والے صفائی کے خیال سے ایسا گڑھا بنوائیں تو اس پر زیادہ سے زیادہ چار پانچ روپیہ خرچ ہو گا اور میرے نزدیک پانچ چھ سال تک کام دے سکتا ہے۔اس کے بعد بھی اگر مرمت کی ضرورت پیش آئے تو اس پر روپیہ دو روپیہ سے زیادہ خرچ نہ ہوگا اور اگر گلی میں دس گھر ہوں تو آٹھ آٹھ آ نہ ہر ایک کے حصہ میں آئیں گے اور پھر اس خرچ کو پانچ سال پر لے جایا جائے تو سات پیسے فی سال کا خرچ ہو گا۔اگر اس خرچ سے صفائی کی حالت اچھی ہو جائے تو کتنا سستا ہے۔اس سے انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت سے بھی بچ سکتا ہے۔اس قسم کی صفائی اگر سب جگہ جاری کی جائے تو یہ ایک بڑی نیکی ہو گی۔دیہات میں بھی اس کی طرف توجہ کی جانی چاہئے وہاں لوگ کی گندگی کوڑوڑی کے نام سے محفوظ رکھتے ہیں۔حالانکہ گورنمنٹ کی طرف سے بار ہا اس حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ اس طرح کھاد کا مفید حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔نوشادر وغیرہ کے جو اجزاء اس میں ہوتے ہیں وہ سب اُڑ جاتے ہیں۔کھاد تبھی اچھی ہو سکتی ہے جب زمین میں دفن ہو نگی رہنے سے سورج کی شعاعوں کی وجہ سے اس کی طاقت کا مادہ اُڑ جاتا ہے۔اس لئے اچھی کھاد وہ ہے جو زمین میں دفن رہے۔تو جوڑ وڑیاں دیہات میں رکھی جاتی ہیں وہ گند ہوتا ہے کھاد نہیں۔پھر اس میں روڑی کے علاوہ زمینداروں کے مد نظر ایک اور سوال اُپلوں کا ہوتا ہے جو وہ جلاتے ہیں حالانکہ یہ کتنی غلیظ بات ہے کہ پاخانہ سے روٹی پکائی جائے۔مانا کہ وہ پاخانہ کی جانور کا ہے مگر کیا جانور کا پاخانہ کھانے کے لئے کوئی تیار ہو سکتا ہے؟ اس پر رکھ کر پھلکے سینکتے ہیں