خطبات محمود (جلد 1) — Page 78
LA چو اس نے ہم سب سے زیادہ قافیہ بتلائے۔جن میں بہت سے عمدہ قافیہ تھے۔جب وہ مرض الموت میں گرفتار ہوا تو حضرت صاحب باوجود تالیف و تصنیف میں بھی مصروف رہنے کے شب و روز اس کے معالجہ میں لگے رہتے حتی کہ میں رات کے گیارہ گیارہ بجے سوتا تو آپ جاگ رہے ہوتے اور جب کبھی آنکھ کھلتی تو آپ جاگے ہوتے۔حیرت ہوتی تھی کہ آپ سوتے کس وقت ہیں۔جس دن وہ فوت ہوا اس دن خیال تھا کہ حضرت صاحب کو اس کا غیر معمولی صدمہ ہو گا۔حضرت خلیفہ اول بڑے جری اور دلیر تھے آپ کو گھبراہٹ نہیں ہوا کرتی تھی مگر ونکہ انہوں نے اس محبت کو دیکھا تھا جو حضرت صاحب مبارک احمد سے رکھتے تھے اس لئے وہ سمجھے کہ حضرت صاحب کو خدا جانے اس حادثہ سے کتنا صدمہ پہنچے آپ اس کی نبض دیکھنے لگے اور حضرت صاحب سے کہا کہ حضرت مُشک لائیے۔حضرت صاحب مشک لینے گئے اور حضرت مولوی صاحب نے گھبرا کر کہا حضرت جلدی لائیے اور چونکہ آخری وقت تھا اور نبض بند ہو رہی تھی اس لئے حضرت مولوی صاحب جلدی جلدی مختلف مقامات سے دیکھ رہے تھے اور حالت یہ تھی کہ قریب تھا کہ آپ گر جاتے۔مگر جب حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ نبض بند ہو گئی ہے تو آپ باہر آکر دوستوں کو نصیحت فرمانے میں مصروف ہو گئے اور بیرون جات خط لکھنے شروع کر دیئے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ایسے صدمے ہوا ہی کرتے ہیں اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے لئے تو یہ خوشی کا موقع ہے۔کیونکہ خدا تعالی کا ایک الہام اس کی جلدی وفات کے متعلق موجود ہے جو آج پورا ہو گیا۔14 اس طرح تو آپ کا رنج خوشی سے بدل گیا۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کو غم کا احساس تو تھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ سے تعلق تھا اس لئے وہ غم خوشی ہو گیا۔اس کے مقابلہ میں ایک عورت ہیں قریب ہی کی رہنے والی تھی۔میں ان دنوں حضرت خلیفہ اول سے پڑھتا تھا۔ایک دن انہوں نے مجھے یہ بتانے کے لئے کہ بے حسی کا مرض بھی ہوتا ہے۔اس عورت سے کہا کہ تیرے بڑے بیٹے کا کیا حال ہے وہ یہ سنکر بننے لگی اور اتنی نہیں کہ بے خود ہو گئی اور ہنستے ہنتے کہا وہ تو مر گیا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے اسی طرح اس کے کئی رشتہ داروں کا حال پوچھا اور اس نے اسی طرح ہنس ہنس کر بتایا کہ وہ مر گئے۔اب دیکھئے کہ حضرت صاحب کا بیٹا فوت ہوا تو آپ نے صبر کے ساتھ اس کو دیکھا اور لوگوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اس عورت کے بھی رشتہ دار فوت ہوئے اور اس نے