خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 7

، تعالی اس طرح انسان کے فطرتی تقاضا کو پورا کرنے کے واسطے کوئی مفید حکمت بتلاتا ہے تو وہ بہت ہی اعلیٰ بات ہوتی ہے اور اس میں بڑے بڑے فوائد نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ چونکہ خود خالق ہے وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کی فطرت میں بھی یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ خوشی کی خواہشمند ہو اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس کی خوشی کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور اس میں بہت سی باریک حکمتیں رکھ دی ہیں اور انسان کے لئے بڑے بڑے منافع کی باتیں اس میں شامل کر دی ہیں۔عید یا خوشی کا دن چونکہ فطرتِ انسانی میں داخل ہے اس واسطے تمام قوموں میں عید منائی جاتی ہے۔عیسائیوں کی عید عنقریب دسمبر کے آخر میں ہونے والی ہے جس کو کرسمس کہتے ہیں۔ایک اور عید عیسائیوں کی ایسٹر میں ہوتی ہے۔ہندو بھی دسہرہ اور ہولی مناتے ہیں۔سکھ بھی عید کرتے ہیں۔یہودیوں میں بھی فرعون کی غلامی سے بچنے کے دن سہال سال عید ہوا کرتی ہے اور اس کے سوا اور بھی ان کے درمیان عید میں ہیں۔غرض گل قوموں میں عید منانے کا دستور چلا آتا ہے۔یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔اس سے قومی میں نشو و نما ہوتا ہے۔لیکن حقیقتاً عید دل کی خوشی سے ہوتی ہے۔اگر کسی کے گھر میں رات چوری ہو گئی ہو اور اس کا تمام مال لوٹا گیا ہو تو وہ صبح کیا عید منائے گا۔یا کسی کے ہاں ماتم ہو گیا تو وہ کیا عید کرے گا جب تک کہ دل میں راحت نہ ہو کوئی عید نہیں۔صرف کپڑوں کی تیاری اور کی کھانے پینے کا نام عید نہیں ہے مگر عید دل کی خوشی سے بنتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے واسطے دو عیدیں مقرر کی ہیں اور ہر دو میں بڑی حکمتیں رکھ دی ہیں۔ہر دو میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دل کی کچی راحت جس کو تم تلاش کرتے ہو وہ ہم بتلاتے ہیں کہ کس طرح مل سکتی ہے۔پہلی عید کے قبل ایک ماہ کا روزہ مقرر کیا ہے کہ جب انسان اپنی خواہشات کو اللہ تعالٰی کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور اس کے لئے بھوک پیاس برداشت کرتا ہے تو یہ اس کے واسطے ایک خوشی کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس عبادت کے بعد وہ ایک عید مناتا ہے۔دوسری عید میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی طرف اشارہ کر کے ہر مسلمان کو جسے استطاعت ہو قربانی دینے کا حکم ہے۔اس میں یہ بہتر ہے کہ تم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دو۔حقیقی عید یہی ہے۔مگر یہاں کیسی مشکل ہے کہ بر خلاف اس کے آج کل کے مسلمان عید کے دن گندے افعال کرتے ہیں۔عیش و عشرت میں دن گزارتے ہیں۔بجائے اس کے کہ دل کی خواہشوں کو قربان کریں زنا