خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 68

۲۸ ڈگمگاتے ہیں اور گرنے لگتا ہے۔تو نفس مطمئنہ میں کون سی حرکت ہوتی ہے ؟ وہ جو گرنے کے خلاف ہو جس میں ثبات ہو۔فرمایا۔اے نفس مطمئنہ ! تو خدا کی طرف جا کیونکہ تیرا خدا تجھ سے راضی ہو گیا اور تو خدا سے راضی اور میرے بندوں میں داخل ہو جا کیونکہ تجھ کو یہ انعام دیا جاتا ہے کہ تو جنت میں داخل ہو۔اور جنت وہ مقام ہے جہاں جس کو داخل کیا جاتا ہے پھر اسے نکالا نہیں جاتا اور دنیا میں بھی جس کو جنت ملتی ہے وہ اس سے نکالا نہیں جاتا۔یہی وجہ ہے کہ جو خاص رتبے اور درجے خدا کی طرف سے بندوں کو دنیا میں دیئے جاتے ہیں ان سے وہ معزول اور موقوف نہیں کئے جاسکتے۔اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں جس نے کبھی نبیوں اور ان کے خلفاء کو ان کے درجہ سے ہٹا دیا ہو کیونکہ وہ ایسی جنت میں داخل ہوتے ہیں جس میں داخل ہونے والا نکالا نہیں جا سکتا۔دیکھو دنیا نے نبیوں کے خلاف کس قدر زور لگائے کہ ان کو مٹا دیں اور ان کو ان کے درجہ سے موقوف کر دیں مگر وہ جس جنت میں خدا کی طرف سے داخل کئے گئے اس سے ہر گز نہ نکالے جاسکے۔پھر لوگوں نے خلفاء کے مقابلہ میں کس قدر زور لگائے اور ان کو موقوف کرنے کے لئے کس قدر کوششیں کیں مگر وہ موقوف نہ ہوئے۔دنیا کے ایسے بادشاہ موقوف ہو گئے جن کی حفاظت کے لئے زبردست سے زبردست باڈی گارڈ تھے لیکن خلفاء کو کوئی موقوف نہ کر سکا۔حضرت عثمان ۸ سے بہت چاہا گیا کہ وہ خلافت سے علیحدہ ہو جائیں مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ یہ خلافت کی قباء مجھے خدا نے پہنائی ہے میں اس کو اتار نہیں سکتا۔اس پر دشمنوں نے آپ کو شہید کر دیا۔اس طرح گو آپ کی ظاہری حیات باقی نہ رہی لیکن جس جنت میں خدا تعالیٰ نے آپ کو داخل کیا تھا اس میں سے آپ کو کوئی نہ نکال سکا۔تاریخ شاہد ہے کہ آپ کے دشمن آپ سے یہ تو کہتے رہے کہ آپ خلافت سے علیحدہ ہو جائیں لیکن نہیں کر سکے کہ بالمقابل کسی کو خلیفہ بنا دیا ہو۔تو خدا جس جنت میں اپنے بندوں کو داخل کرتا ہے اس سے کوئی نکال نہیں سکتا۔فرمایا اگر اس جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو تو میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ۔اس کا ایک ہی طریق ہے کہ خدا کی عبودیت اختیار کرو۔جب خدا کے عہد ہو جاؤ گے تو جنت میں داخل کر دیئے جاؤ گے اور پھر ایسے داخل ہو گے کہ کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ہاں اس میں جو داخل ہو جاتا ہے اس کے لئے ہر روز ترقی کا روز ہے اور جو دن اس پر چڑھتا ہے وہ عید کا ہی دن ہو تا ہے۔