خطبات محمود (جلد 1) — Page 479
روپیہ میں فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے ہاں کسی جرنیل کو بھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ یہ کار خرید سکے حالانکہ اس کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے۔یہ فرق اس لئے ہے کہ وہ خاندانی لحاظ۔امیر ہوتے تھے اور گھر سے روپیہ منگوایا کرتے تھے۔انگریزوں میں دو قسم کے میجر ہوا کرتے تھے ایک تو وہ جو صرف تنخواہ پر گزارہ کرتا تھا اور وہ اونی سمجھا جاتا تھا اور دوسرے کو وائسرائے تک بلاتا تھا کیونکہ اس کا باپ اسے روپیہ بھیجتا تھا۔گورنمنٹ سے اسے دو سو یا اڑھائی سو روپیہ ملتا تھا اور باپ اسے آٹھ دس ہزار روپیہ ماہوار بھیج دیتا تھا جس کے نتیجہ میں وہ ریس کے گھوڑے بھی رکھتا تھا اور بڑی شان سے رہتا تھا۔کئی وائسرائے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی لڑکیوں کی شادی فوج کے اے۔ڈی۔سی سے کر دی۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ لفٹنٹ یا کپتان ہو تا تھا بلکہ وہ اس وجہ سے شادی کر دیتے تھے کہ ان کا باپ اتنی حیثیت کا مالک ہو تا تھا کہ وہ سمجھتے تھے اس لڑکے سے شادی کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔غرض اس قوم کی ہسٹری بتاتی ہے کہ اس نے اپنے اوپر رمضان گزارا ہے۔ان کے گھروں میں مال بھی تھا مگر انہوں نے قوم کی خدمت کے لئے اور ملک کی خدمت کے لئے فاقہ کیا۔یہی سبق ہے جو عید الفطر سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔آخر روزے صرف غرباء نہیں رکھتے بلکہ امراء بھی رکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود بھی کھا سکتے ہیں اور پچاس اور کو بھی روزانہ کھلا سکتے ہیں مگر انہوں نے خدا تعالٰی کے لئے اور قوم کی ترقی کے لئے بھوک برداشت کی ہوتی ہے۔اس کے بعد وہ دن آتا ہے کہ خدا کہتا ہے اب روزہ کھول دو اور رسول کریم یا یا وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کے دن روزہ رکھے وہ شیطان ہوتا ہے کہ لیکن رمضان میں روزہ رکھنے والا فرشتہ ہوتا ہے اس لئے کہ روزوں کے دنوں میں خدا کہتا ہے کہ نہ کھاؤ اور عید کے دن خدا کہتا ہے کہ اگر تمہارے پاس کچھ نہیں ہے تب بھی کھاؤ۔۔پس چونکہ وہ خدا کی فرمانبرداری اور قوم کی ترقی کے لئے فاقہ کرتا ہے اس لئے اسے خدا کی طرف سے اعزاز مل جاتا ہے۔پس یہ عید ہمیں توجہ دلاتی ہے کہ قومیں کس طرح ترقی کیا کرتی ہیں۔ہمارے ملک کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ذرا ذرا سے فائدہ کے لئے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں حالانکہ رمضان بتاتا ہے کہ دوسروں کا کیا چھینا ہے خود بھی فاقہ سے رہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے بھی غرباء کی فلاح اور بہبود کے لئے خرچ کرو۔یہ روح جس دن مسلمانوں میں پیدا ہو گئی در حقیقت وہی دن ان کے لئے حقیقی عید کا دن ہو گا