خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 478

(۴۴) (فرموده ۱۲ مئی ۱۹۵۶ء بمقام مری) یہ عید جس کے خطبہ کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں عید الفطر کہلاتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ مہینہ بھر کے روزے رکھنے کے بعد مسلمان اس دن افطاری کرتے ہیں۔اس عید میں ہم کو ایک بہت بڑا سبق دیا گیا ہے جیسا کہ عید الاضحیہ جسے ہمارے ملک میں بڑی عید کہتے ہیں اس میں بھی ہمیں کئی ایک سبق دیئے گئے ہیں وہ سبق جو اس عید میں ہمیں دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اصل عید وہ ہے جب انسان کو کھانے پینے کی توفیق ہو اور پھر وہ ایک لمبے عرصہ تک کھانے پینے سے گریز کرے اور مال و دولت کے ہوتے ہوئے اسے اپنی ذات پر خرچ نہ کرے بلکہ بنی نوع انسان کی خدمت کے کاموں پر خرچ کرے تب اسے اور اس کی قوم کو حقیقی عید میتر آتی ہے۔انگریزوں پر لوگ بڑے بڑے اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کی تاریخ پڑھو اور ملکہ ایلزبتھ ا سے لے کر ملکہ وکٹوریہ آ کے زمانہ تک اور وکٹوریہ کے زمانہ سے لے کر ترک ہندوستان ۳ تک ان کی قوم کو دیکھو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس وقت انگریز جرنیل کو بھی اتنی تنخواہ نہیں ملتی تھی جتنی ہمارے لفٹنٹ کو ملتی ہے حالانکہ ان کا ملک گراں تھا۔ان کا سارا فخر اس بات پر ہوا کرتا تھا کہ فلاں لارڈ کا لڑکا فوج میں ہے۔وہ خود ڈیوک ہو تا تھا اور اس کی حیثیت ایسی ہی ہوتی تھی جیسے نواب بھوپال حیدر آباد کی حیثیت تھی مگر فوج میں اس کا لڑکا سو ڈیڑھ سو روپیہ تنخواہ لیتا تھا اور بڑا فخر سمجھا جاتا تھا کہ فلاں ڈیوک کا بیٹا ملک کی خدمت کر رہا۔ہے۔ہمارے کرنیل اور جرنیل بھی یہ توفیق نہیں رکھتے کہ ان کے پاس رئیس کے گھوڑے ہوں۔مگر انگریزی زمانہ میں ان لفٹینٹوں کے پاس بھی ریس کے گھوڑے ہوا کرتے تھے۔مجھے ایک دفعہ موٹر خریدنے کی ضرورت تھی مجھے یاد ہے ان دنوں اخبار میں فوج کے ایک انگریز لفٹنٹ کی طرف سے اشتہار چھپا کہ میرے پاس رولز رائس ہے میں چونکہ ولایت جانا چاہتا ہوں اس لئے جو شخص سب سے پہلے پچاس ہزار روپیہ دے گا اسے میں یہ کار دے دوں گا۔اب دیکھو ایک لفٹنٹ تھا مگر وہ اعلان کر رہا تھا کہ میرے پاس رولز رائس" ہے اور میں پچاس ہزار