خطبات محمود (جلد 1) — Page 448
۴۴۸ مقصود کو جو خدا تعالیٰ ہے نہیں مل رہا۔پس عشق کے ہوتے ہوئے خوشی کی کوئی تقریب ایسی نہیں ہوتی جو غم نہ بن جائے۔عشق کے ہوتے ہوئے خوشی کی تقریب کا غم نہ بن جانا ایک ناممکن امر ہے۔جس ماں کا بچہ گم ہو گیا ہو ہر نیا بچہ جو اس کے ہاں پیدا ہوتا ہے اسے دیکھ کر وہ رو پڑتی ہے۔اس کے خواہ دس بچے بھی ہو جائیں اس کی تسلی نہیں ہوتی۔جب پوچھو کہ تمہارے ہاں دسواں بچہ پیدا ہوا ہے کیا اب بھی تم روتی ہو ؟ تو وہ کہے گی مجھے اپنا گم شدہ بچہ یاد آ گیا تھا۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے وہ مگر جب تک یوسف نہیں ملا ان کے گیارہ بیٹے گیارہ خوشیاں نہیں تھیں بلکہ ان کے لئے ایک رنگ میں غم کا باعث تھے اور باری باری جب انہیں نظر آتے تو حضرت یوسف علیہ السلام یاد آجاتے اور ان کا دل غم سے بھر جاتا اور ان کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آتے لے کیونکہ گم شدہ بچہ ہمیشہ یاد آتا ہے لیکن مرنے والا یاد نہیں آتا۔مرنے والے پر چند دن رو کر انسان چُپ کر جاتا ہے لیکن کھویا ہوا بچہ ساری عمر یاد آتا رہتا ہے۔گذشتہ فساد لاء میں جن ماؤں کے بچے ادھر ادھر رہ گئے تھے ان میں سے بعض میرے پاس دعا کے لئے آتی ہیں تو ان کے یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ دعا کریں یا تو اس کا پتہ لگ جائے کہ وہ کہاں ہے اور یا یہ پتہ لگ جائے کہ وہ مر گیا ہے اگر مرگیا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا واسطہ ہو جائے گا۔غرض جب کوئی محبوب چھٹا ہوا ہو تو خوشی کی تقریب بھی غم بن جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی محبت دل میں موجود ہے تو بندے کی بھی یہی حالت ہونی چاہئے اسی لئے اس خوشی کے موقع پر خدا تعالیٰ نے نماز رکھ دی جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہم خوشی منا رہے ہیں حالانکہ اصل خوشی حاصل نہیں اس لئے آؤ اب ہم کچھ رو بھی لیں اور خدا تعالیٰ کے حضور گریه و زاری کرلیں کیونکہ بعض دفعہ اس طرح بھی انسان کے اندر روحانیت پیدا ہو جاتی ہے۔الفضل ۷۔مارچ ۱۹۶۲ء) صحیح بخاری کتاب الاجارة - باب من استاجر اجیرا فترك اجره کے اس واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ السيرة الامام ابن هشام الجزء الاول صفحه ۱۸۵ پر بیان ہوا ہے۔ترمذی ابواب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة - سنن ابن ماجه