خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 434

م ہوں گے ۲۳ اسے سوچنا چاہئے کہ وہ آپ کی خدمت میں کونسا نذرانہ لے کر جائے گا اور کونسا تحفہ آپ کی خدمت میں پیش کرے گا۔آپ اس سے سوال کریں گے کہ میری قوم کی کیا حالت تھی۔تو کیا وہ یہ جواب دے گا کہ یا رسول اللہ ( ملا لیا اور اسے تو دین کا کوئی فکر ہی ) نہیں اور اگر وہ یہ جواب دے گا تو پھر آپ اس سے پوچھیں گے کہ تم نے اس کے لئے کیا کیا۔اس پر کیا وہ یہ جواب دے گا کہ میں تو اپنے بیوی بچوں کی فکر میں پڑا رہتا تھا مجھے قوم کا کیا پتہ ہے۔کیا اس کے اس جواب پر رسول کریم ملی تیم ملی و کی روح خوش ہوگی اور کیا آپ کی نگاہ میں اس کی کوئی عزت ہو گی۔دنیا میں ہر کام کا ایک درجہ ہوتا ہے۔رسول کریم ملی دلیل اللہ فرماتے ہیں ایمان کے تین مدارج ہیں۔اول بُرائی دیکھنے پر اس کی اگر طاقت ہو تو اس کے ذریعہ اصلاح کرنا۔دوم اگر طاقت سے اصلاح نہیں ہو سکتی تو اس کے خلاف وعظ و نصیحت کرنا۔سوم اگر اس میں اتنی جرات بھی نہیں پائی جاتی کہ اس بُرائی کے خلاف وعظ و نصیحت کرے تو کم از کم دل میں ہی بڑا منانا۔۲۴ آخر ہر شخص کو یہ مقدرت نہیں ہو سکتی کہ لاکھوں آدمیوں کو سختی کے ذریعہ کسی برائی سے ہٹا سکے یا وعظ و نصیحت کر سکے لیکن اگر وہ دل میں بھی برا نہیں مناتا تو پھر اس کے ایمان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ایک بزرگ کہیں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے دیکھا کہ بادشاہ کا ایک ملازم ہاتھ میں سارنگی لئے بجا رہا ہے۔انہوں نے اس کی سارنگی چھین لی اور توڑ ڈالی۔اس نے بادشاہ سے اس بزرگ کی شکایت کی اور کہا آج انہوں نے میری سارنگی تو ڑ ڈالی ہے کل کسی وزیر کی یا آپ کی وہ ہتک کرے گا۔بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے اس بزرگ کو بلا بھیجا اور سارنگی پاس رکھ لی۔وہ بزرگ دربار میں آئے۔بادشاہ نے ان سے کچھ نہ کہا۔سارنگی ہاتھ میں لی اور بجانے لگ گیا۔وہ بزرگ سر ڈال کر بیٹھے رہے۔بادشاہ نے کہا جب کل تم نے میرے ملازم کی سارنگی تو ڑ دی تھی تو اب کیوں نہیں توڑتے۔اس بزرگ نے جواب دیا بادشاہ سلامت ! رسول کریم میں یا اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم کوئی برائی دیکھو اور تمہیں مقدرت حاصل ہو تو اس کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرو اور اگر اس کی جرأت نہ کر سکو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرو اور اگر اتنی بھی جرات نہ ہو تو کم از کم دل میں برا مناؤ۔بادشاہ سلامت! کل میں سختی کے ساتھ ایک برائی کی اصلاح کر سکتا تھا سو میں نے اس ملازم کی سارنگی تو ڑ دی لیکن آج نہ میں اتنی طاقت رکھتا ہوں کہ اس برائی کی اس کے ذریعے اصلاح کروں اور نہ اس کے خلاف