خطبات محمود (جلد 1) — Page 414
(۳۷) (فرموده ۱۸۔اگست ۱۹۴۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔قادیان) جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اور جب سے اللہ تعالیٰ کے رسول دنیا میں آنے شروع ہوئے ہیں یہ الہی سنت چلی آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے درخت ہمیشہ آندھیوں اور طوفانوں کے اندر ہی ترقی کیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آندھیوں اور طوفانوں کو صبر سے برداشت کرے اور کبھی ہمت نہ ہارے۔کہ جس کام کے لئے الہی جماعت کھڑی ہوتی ہے وہ کام خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے بندوں کا نہیں ہو تا پس وہ آندھیاں اور طوفان جو بظاہر اس کام پر چلتے نظر آتے ہیں در حقیقت وہ بندوں پر چل رہے ہوتے ہیں اس کام پر نہیں چل رہے ہوتے اور یہ محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے جیسے تم نے ریل کے سفر میں دیکھا ہوگا کہ چل تو ریل رہی ہوتی ہے مگر تمہیں نظریہ آتا ہے کہ درخت چل رہے ہیں اسی طرح جب آندھیاں اور طوفان الہی سلسلوں پر آتے ہیں تو جماعتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ یہ آندھیاں اور طوفان ہم پر نہیں بلکہ سلسلہ پر چل رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ سلسلہ پر نہیں آ رہے ہوتے بلکہ افراد پر آ رہے ہوتے ہیں۔ان افراد پر جو اس سلسلہ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں ان آندھیوں اور طوفان کو بھیج کر اللہ تعالٰی مومنوں کے ایمانوں کا امتحان لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام اور خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم کا امتحان لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امتحان تو انسانوں کا لیا جاتا ہے۔پس یہ آندھیاں اور یہ طوفان انسانوں پر آتے ہیں مگر انسان کم عقلی سے یہ سمجھتا ہے کہ یہ کسی اور پر آرہے ہیں اور وہ طوفان جو اس کو ہلا رہے ہوتے ہیں ان کے متعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ خدائی سلسلہ کو ہلا رہے ہیں۔اس وقت ایسے انسان کی مثال بالکل اس عورت کی ہوتی ہے جو قادیان کی رہنے والی تھی اور تھی بھی نیک مگر اس کے دماغ میں کچھ نقص تھا اور یہ اس کی خاندانی بیماری تھی۔وہ نہایت شریف اور باحیا عورت تھی مگر جنون کی حالت میں وہ باہر پھرا کرتی تھی۔ایک دن وہ ہماری نانی صاحبہ مرحومہ ۳ کے پاس بیٹھی تھی اس دن اس کا دماغ کچھ اچھا تھا اور دورہ زور پر نہ تھا۔ایک دو