خطبات محمود (جلد 1) — Page 335
۳۳۵ اور درمیانی مشکلات کو دور کر کے اپنے ملک میں واپس لایا اور اسے اپنی قوم کی اصلاح کا موقع دیا۔مگر ایک اور شخص تھا جو رامچند رجی سے بھی پہلے گذرا تھا نام بھی اس کا رام سے ہی ملتا ہے حتی که بعض لوگ ای اشتراک کی وجہ سے اس طرف چلے گئے ہیں کہ رام اور ابراہیم ایک ہی شخص تھے کہ مگر وہ دنیوی لحاظ سے رام چندر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا تھا۔رام چندر کے باپ تو راجہ تھے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک معمولی زمیندار کی حیثیت رکھتے تھے اور وہ بھی بعد میں زمیندار بنے۔۸ پہلے اپنے چچا کی دکان پر مال بیچا کرتے تھے اور وہ دکان بتوں کی تھی۔ان کا باپ بچپن میں فوت ہو چکا تھا چانے انہیں اپنی دکان پر بٹھا دیا ، مگر ان کا سودا بیچنے کا طریق عجیب تھا۔یہودی تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دن دکان پر ایک بڑھا شخص آیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چاہئے۔اس نے کہا مجھے ایک بت کی ضرورت ہے۔حضرت ابراہیم نے اپنی دکان کے تمام بت اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیئے اور کہا ان میں سے جو پسند آئے وہ لے لو۔اس نے خوب دیکھ بھال کے بعد ایک بت چنا اور جب اس کی قیمت دینے لگا تو باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر اس وقت صرف چودہ پندرہ سال وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔بڑھا ان سے کہنے لگا کہ لڑکے تم نے کیوں ؟ انہوں نے کہا بابا! آپ کی عمر کیا ہوگی اس نے ستر پچھتر یا اسی سال کی عمر بتائی حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ سن کر پھر ہنسے اور کہنے لگے میرا چچا یہ بت کل بنا کے لایا ہے کیا اتنی بڑی عمر کے ہو کر تمہیں اس بت کے آگے سر جھکاتے ہوئے شرم نہیں آئے گی۔اس بات کا اس بڑھے پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے بت وہیں پھینکا اور چلا گیا۔اے کی آپ کے چیرے بھائیوں نے اس واقعہ کی اپنے باپ سے شکایت کی اور کہا کہ اگر ابراہیم دکان پر بیٹھا رہا تو وہ اسے اجاڑ دے گا چنانچہ چچا نے ان کو دکان سے اٹھا دیا۔پھر کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے کئی تکالیف کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ دیا اور کنعان میں آگئے۔یہاں آ کر انہوں نے کچھ گلے بکریوں کے رکھ لئے اور انہی پر گزارہ کرنا شروع کر دیا۔الہ آہستہ آہستہ خدا نے ان کو برکت دی اور شاید سو دو سو بکریاں اور پندرہ میں گائیں ان کے پاس ہونگی یہ ان کی کل جائداد تھی گویا دنیوی لحاظ سے رام چندر جی کی دنیوی حیثیت کے مقابلہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔مگر ابراہیم کی یاد کو بھی چونکہ خدا نے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا تھا اس لئے خدا نے ابراہیم سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دو۔حضرت ابراہیم علیہ