خطبات محمود (جلد 1) — Page 304
۳۰ کرتے رہتے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ بعض باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔مثلاً یہ کہ شراب کی اسلام نے ممانعت کی ہے کہ کیونکہ اس سے انسان بد مست ہو جاتا ہے لیکن سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو شراب کے استعمال سے بد مست نہیں ہوتے۔انہوں نے ساری عمر کبھی اتنی شراب نہیں پی کہ دماغ پر اس کا اثر ہو اور اسلام اس کے فوائد بھی تسلیم کرتا ہے۔پھر اس کے استعمال کی ممانعت کیوں کی گئی ہے کیوں اس پر پابندی نہیں لگا دی۔میں نے کہا یہ تو صحیح ہے کہ بعض لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو بد مست نہ ہوں لیکن ہر انسان کی عقل مختلف ہوتی ہے اور ہر شخص اس کا اہل نہیں ہو تا کہ صحیح اندازہ کر سکے۔میں نے کہا آپ وکالت کرتے ہیں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو کئی لوگ کر سکتے ہیں اور کئی نہیں کرتی سکتے لیکن ان کے متعلق جو قانون ہوتا ہے اس کے نفاذ میں کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا۔مثلاً دفعہ ۱۴۴ کا اگر نفاذ کسی شہر میں کیا جاتا ہے تو یہ فرض کر کے نہیں کیا جاتا کہ تمام لوگ یہاں فسادی ہیں۔وہاں شریف بھی ہوتے ہیں جو فساد سے بچتے ہیں لیکن اس دفعہ کے نفاذ میں کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔اگر اس کا اعلان اس رنگ میں کیا جائے کہ ایسے پانچ آدمی جمع نہ ہوں جو فساد کرنے والے ہیں۔تو کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا آدمی ہو گا جو کے کہ میں فساد کی نیت سے آیا ہوں۔میں نے انہیں بتایا کہ قانون میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے لوگ اس کی پابندی کر سکیں گے اور کتنے نہیں بلکہ اعلان عام ہوتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ فساد اور ضرر کا احتمال ہی باقی نہ رہے اور جب ضرر کا احتمال زیادہ ہو تو اسی کو مقدم رکھ کر حکم دیا جاتا ہے۔یہ بحث تو میں نے انہیں سمجھانے کے لئے کی ورنہ حقیقت یہی ہے کہ سائنس کی موجودہ تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ الکحل قلیل مقدار میں بھی دماغ پر اثر کرتا ہے۔کہ میں نے کہا میں مان لیتا ہوں کہ آپ ساری عمر شراب استعمال کریں تو بھی حد کے اندر رہ سکتے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ آپ کا ہمسایہ بھی جو عقل و فہم کے لحاظ سے آپ سے بہت کم ہے اپنے آپ کو حد کے اندر رکھ سکتا ہے یا نہیں۔میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ اپنے ہمسایہ سے زیادہ اچھے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ کا ہمسایہ بھی اس بات کو تسلیم کر لینے کے لئے تیار ہے ؟ وہ تو کہے گا کہ وہ آپ سے زیادہ اچھا ہے اور چونکہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون حدود کے اندر رہ سکتا ہے اور کون نہیں اس لئے شریعت اسلامیہ نے عام قانون بنا دیا اور حکم دے دیا کہ آپ بھی شراب استعمال نہ کریں تا آپ کا ہمسایہ بھی اس سے باز رہ سکے۔یہ ایک نہایت -