خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 302

(۲۹) ( فرموده ۱۳ نومبر ۱۹۳۹ء بمقام عید گاہ۔قادیان) دنیا میں کوئی ایک بھی ایسی چیز نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ اگر فلاں فلاں شرائط کے ساتھ اس کام کو کر لیا جائے تو یہ کام مکمل ہو جائے گا۔میری مراد ان کاموں سے ہے جن کے شرعی نتائج نکلتے ہیں۔سائنس کے تجارب سے میری مراد نہیں۔تمام حد بندیاں کسی نہ کسی وقت میں جاکر ٹوٹ جاتی ہیں اور کوئی نہ کوئی پہلو ایسا ضرور نکل آتا ہے جو ان شرائط کو بھی نامکمل اور ناقص بنا دیتا ہے۔جب ہم پڑھا کرتے تھے تو اس وقت کے ریڈروں میں ایک بڑی عجیب تمثیل بیان کی گئی تھی جو میرے اس مضمون کو اچھی طرح واضح کر دیتی ہے۔کہتے ہیں کوئی آقا تھا جو اپنے ملازموں کے ساتھ بڑی سختی کا سلوک کیا کرتا تھا اور آہستہ آہستہ جب اس کی یہ شہرت ہو گئی اور لوگوں میں وہ بدنام ہو گیا تو اس کے پاس کوئی شخص نوکر رہنے کے لئے آمادہ نہ ہوتا تھا۔آخر بہت جستجو کے بعد اسے ایک شخص ملا جس نے یہ شرط اس کے سامنے پیش کی کہ آپ مہربانی کر کے میرے فرائض مجھے لکھ کر دے دیں اور میں انہیں ادا کر دوں گا اگر ان میں میں کوئی کوتاہی کروں تو میں مجرم ہوں گا اور ان سے زائد اگر آپ مطالبہ کریں تو میں نہیں کروں گا۔اسے چونکہ خادم نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف تھی اس نے یہ شرط قبول کر لی اور نوکر کے جتنے فرائض اس کے ذہن میں آسکتے تھے ان کو ایک کاغذ پر لکھ کر نوکر کے حوالے کر دیا۔نوکر نے وہ کاغذ رکھ لیا اور کام شروع کر دیا۔کچھ روز تک تو دونوں کا نباہ ہو تا رہا۔ایک دن آقا گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا کہ گھوڑا کسی چیز سے ڈر کر بد کا اور سور اگر گیا لیکن بد قسمتی سے اس کا ایک پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔اس کا سر تو زمین کے ساتھ گھٹتا ہوا جا رہا تھا اور پاؤں رکاب میں پھنسا ہوا تھا اور پیچھے پیچھے نو کر چلا جا رہا تھا کیونکہ اس کی ملازمت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب آقا گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جائے تو وہ پیچھے پیچھے چلے۔اس نے نوکر کو پکارا اور کہا کہ میں مر رہا ہوں رکاب سے میرا پاؤں جلدی نکال نگر نوکر نے وہ ان شرائط نامہ جیب سے نکالا اور کہا