خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 284

۲۸۴۴ ہو گا مگر بادشاہ سلامت دیکھئے لوگ تو دس بارہ برس کے بعد درخت کا پھل کھاتے ہیں اور میں نے اس درخت کا پھل اسی وقت کھا لیا۔بادشاہ یہ سنتے ہی پھر بے اختیار کہہ اٹھا۔زہ۔اور وزیر نے جھٹ تین ہزار درہم کی دوسری تحصیلی بھی بڑھے کے سامنے پیش کر دی۔یہ دیکھ کر وہ بڑھا کہنے لگا بادشاہ سلامت! اب دیکھئے ایک اور لطیفہ ہو گیا۔لوگ تو اپنے درختوں کا پھل سال میں ایک دفعہ کھاتے ہیں اور میرے درخت نے تھوڑی ہی دیر میں دو دفعہ پھل دے دیا۔بادشاہ بے اختیار کہہ اٹھا۔زہ۔اور وزیر نے جھٹ تیسری تھیلی بھی اس کے سامنے پیش کر دی۔یہ دیکھ کر بادشاہ کہنے لگا یہاں سے چلو ورنہ یہ بڑھا ہمیں لوٹ لے گا۔۱۸ یہ بظاہر ایک لطیفہ ہے مگر اتنی معرفت کا نکتہ اپنے اندر رکھتا ہے کہ قومیں اس نکتہ کو یاد رکھ کر زندہ رہ سکتی ہیں اور قومیں اس نکتہ کو فراموش کر کے ہلاک ہو سکتی ہیں۔وہ نکتہ یہ ہے دیکھنے والے کو صرف یہی نہیں دیکھنا چاہئے کہ میری قربانی مجھے کیا فائدہ دے گی بلکہ اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ میری قربانی کا میری اولاد اور آئندہ نسل پر کیا اثر پڑے گا۔دنیا میں بے اولاد بہت کم ہوتے ہیں اور جو بے اولاد ہوں ان کے بھی بھائیوں اور بہنوں کی اولاد ہوتی ہے۔الا ما شاء اللہ۔تو انسان جو قربانیاں کرتا ہے ان کے متعلق اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس کا مجھے فائدہ نہ پہنچا تو قوم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اگر کسی کو قوم کا خیال نہ آئے تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ میری اولاد کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔بہر حال قومی طور پر اور اہلی اور عائلی طور پر بھی قربانیوں کا نفع پہنچ جاتا ہے اور کون ہے جو اس غرض کے لئے قربانی کرنے کیلئے تیار نہ ہو کہ میری اولاد کو میری قربانی سے فائدہ پہنچے۔ہم تو دیکھتے ہیں لوگ آپ مر جاتے ہیں مگر اپنی اولاد کو زندہ دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ہمایوں بیمار ہوا تو بابر نے اس کی چارپائی کے گردبارہ چکر کاٹے اور دعا کی کہ الہی اس کی موت مجھے دے دے۔اس کی یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ آٹھ دس دن کے اندر اندر ہمایوں اچھا ہو گیا اور بابر بیمار ہو کر مر گیا۔19ء تو ماں باپ بچوں کی خاطر قربانیاں کرتے ہیں پھر کون کہہ سکتا ہے کہ اگر قومی ترقی کے لئے قربانیاں کرنی پڑیں تو وہ دو بھر ہو سکتی ہیں۔قومی ترقی کے بعد تو تمام قوم معزز سمجھی جانے لگتی ہے چنانچہ ایک عرب شاعر کہتا ہے میں ذلیل نہیں بلکہ معزز ہوں اس لئے کہ میرے ہمسائے معزز ہیں مگر وَجَارُ الاكثرين ذليل ٢٠ اکثر لوگوں کے ہمسائے ذلیل ہوتے ہیں اور اس لئے وہ خود بھی ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔اسی