خطبات محمود (جلد 1) — Page 283
۲۸۳ فیصلہ کر لے گا کہ میری فردی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں میرا چین ، میرا آرام اور میری زندگی سب قومی حیات میں ہے تو تم کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کرتے چلے جاؤ گے۔لیکن قوم سے میری مراد جماعت احمدیہ ہی ہے نہ کہ کچھ اور۔اور ان معنوں میں قوم کا لفظ حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی استعمال فرمایا کرتے تھے لیکن جب آپ کی مراد قوم سے جماعت احمد یہ نہ ہوتی تو آپ اس لفظ پر چڑتے اور فرماتے قوم قوم کہنے نے ہی لوگوں کو تباہ کر دیا ہے۔تو قوم سے میری مراد جماعت احمد یہ ہے پس جو شخص قومی ترقی اپنے مد نظر رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے وجود کی کوئی حیثیت نہیں وہ صرف قوم کے جسد کے مقابلہ میں ایک عضو ہے اور عضو چاہے سو دفعہ کٹ جائے اس کی کوئی پروا نہیں کی جا سکتی اور جو شخص سمجھتا ہے کہ میری عید جماعت کی عید میں ہے اگر جماعت کو عید میسر آگئی تو مجھے بھی آگئی وہ ضرور کامیاب ہو جاتا ہے۔اور جب میں نے کہا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے میرا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص اس نکتہ کو اپنے مد نظر نہیں رکھتا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو تا۔اس موقع پر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔کہتے ہیں کوئی بادشاہ تھا۔جس کا یہ طریق تھا کہ وہ جس پر خوش ہو تا اسے تین ہزار درہم انعام دے دیتا۔ایک دفعہ وہ کہیں سے گذر رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک بڑھا جس کی عمر نوے سال کے قریب ہے وہ زمین میں ایک ایسا درخت بو رہا ہے جس نے بہت مدت کے بعد پھل لانا تھا۔بادشاہ یہ دیکھ کر وہاں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا میاں بڑھے ! یہ کیا حماقت کی بات کر رہے ہو جب تک یہ درخت بڑا ہو گا اور اسے پھل لگے گا اس وقت تک تو تم فوت ہو چکے ہو گے پھر کیوں یہ درخت بو رہے ہو۔وہ بڑھا یہ سنتے ہی کدال چھوڑ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت! آپ جیسا دانا آدمی ایسی بیوقوفی کی بات کے تو تعجب ہی آتا ہے۔اے بادشاہ! اگر ہمارے باپ دادے اسی خیال کے ہوتے تو ہم درختوں کے پھل کہاں سے کھاتے انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے ان کے پھل کھائے اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری نسلیں اس کا پھل کھائیں گی۔جب یہ معرفت کا نکتہ اس بڑھے کی زبان سے نکلا تو بے اختیار بادشاہ کہنے لگا۔زہ۔جس کے یہ معنے تھے کہ تم نے کیا ہی اچھی بات کہی۔وزیر نے فورا تین ہزار روپیہ کی تھیلی نکالی اور اس بڑھے کے سامنے پیش کر دی۔اس بڑھے نے وہ تھیلی لی اور پھر بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا بادشاہ سلامت! آپ کی بات کی تو ابھی تردید ہو گئی آپ کہتے تھے کہ تو نے اس درخت کا پھل کب کھانا ہے جب تک اسے پھل لگے گا اس وقت تک تو مر چکا