خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 265

۲۶۵ دور بعد وہ واپس آیا۔اس کی ماں کو پتہ لگا تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں تجھ سے ملنا چاہتی ہوں مجھے آکر مل جاؤ۔وہ چھوٹی عمر کا بچہ تھا جب وہ اپنے والدین سے جُدا ہوا۔پھر وہ اپنے والدین کا اکلوتا بچہ تھا وہ سالہا سال اپنے گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے خیال کرتا تھا کہ شاید اس کی ماں کے دل میں نرمی پیدا ہو گئی ہوگی مگر جب وہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے گیا تو اس نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے کہا بیٹا اب تو امید ہے کہ تم اس صابی کے پاس نہیں جاؤ گے۔وہ صحابی فورا علیحدہ ہو گیا اور اس نے کہا۔اماں میں نے تو سمجھا تھا کہ میرے دور جانے کی وجہ سے تمہارا ار ہو گیا ہو گا ۱۲ مگر تمہاری کیفیت تو اب تک وہی ہے۔میں تمہاری وجہ سے محمد رسول اللہ مال کو نہیں چھوڑ سکتا۔یہ کہہ کر وہ نوجوان اسی وقت گھر سے نکل گیا اور پھر اس نے کبھی اپنی ماں کا منہ نہیں دیکھا۔پس حقیقی عید وہی ہے جس میں انسان کو عمل میں لذت محسوس ہونے لگے اور وہ خدا کے لئے ہر قسم کی قربانیوں کی آگ میں کودنے کے لئے تیار رہے اور کبھی ترک عمل کے قریب بھی نہ جائے۔یہ مقام جب کسی فرد یا قوم کو حاصل ہو جاتا ہے تو اسے حقیقی عید میسر آجاتی ہے اور دینی اور دنیوی مقاصد میں وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔پس کوشش کرو کہ تمہیں یہ عید میتر آئے اور تمہاری تمام تر لذت اور تمہاری ساری خوشی اسی بات میں ہو جائے کہ تم خدا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دو اور اسی کو اپنی عید سمجھو۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور وہ تمہیں اس حقیقی عید سے حصہ دے جس کے میتر آنے کے بعد دنیا کی کوئی تکلیف انسان کو پریشان نہیں کر سکتی۔الفضل ۲۲ - فروری ۱۹۶۳ء) صحيح بخارى كتاب الاضاحي باب ما يوكل من لحوم الاضاحي سنن ابي داؤد باب اذا وافق يوم الجمعة يوم عيد هود : ۱۰۹ الاعراف: ۱۵ ۱۶ نوٹ ۴ صفحہ ۳۰۶ تفسیر صغیر الحجر :٣٤ ل النزعت : ۳۲ ك السجدة : ل صحیح بخاری کتاب الاداب باب اکرام الضيف و خدمته