خطبات محمود (جلد 1) — Page 231
۲۳۱ آتی ہے تو چاہئے کہ اسے سب بھائیوں کے ساتھ مل کر منایا جائے۔اس عید پر لوگ سیویاں تقسیم کرتے ہیں اور اس رسم کی حد ہو گئی ہے چاہے کوئی کھائے یا نہ کھائے مگر اس دن سیویاں ضرور ایک دوسرے کے ہاں بھیجی جاتی ہیں۔رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں سے پیالے پر پیالے آتے ہیں۔گویا ساری خوشی عید کی سیویوں میں ہوتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی عورت کسی کے ہاں ملازم تھی اس کے آقا نے اسے ایک دن کہا ہم سحری کے وقت تجھ سے کوئی کام تو لیتے نہیں اور روزہ تو رکھتی نہیں پھر اٹھنے کا کیا فائدہ۔اس نے کہا میں نماز نہ پڑھوں روزہ نہ رکھوں سحری نہ کھاؤں تو کافر ہو جاؤں۔اسی طرح عید کی سیویاں بھی اسلام کا چھٹا رکن سمجھ لیا گیا ہے چاہے انہیں دیکھ کر کسی کو قے آتی ہو، چاہے رکھنے کو جگہ نہ رہے ، مگر ایک دوسرے کے ہاں بھیجنا ضروری ہے۔میں نے تو گھر میں اس سے روک دیا ہے تحفہ کی حد تک تو یہ چیز جائز تھی مگر اب یہ علت کی حد تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح عید الاضحی کے موقع پر گوشت ہوتا ہے جس کا باہم ایک دوسرے سے تبالہ ہو جاتا ہے اور وہی مثلاً ہو جاتی ہے کہ "آنا ونڈے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں دے۔" یعنی نابینا ریوڑیاں بانٹتے ہوئے اپنوں کو بار بار دے۔گوشت کو آپس میں ہی بانٹ دیا جاتا ہے اور غریبوں کے ہاں اُس دن بھی دال ہی پکتی ہے۔یا اگر غرباء میں بھی بانٹا جائے تو اس بیوقوفی سے بانٹا جاتا ہے کہ ایک غریب کے ہاں تو دس سیر جمع ہو جائے گا جس کی اسے ضرورت نہیں ہوتی اور دوسرے کے ہاں اس دن بھی فاقہ ہی ہو گا۔میں نے اس خیال سے کہ ان باتوں کو ہم کیوں نہ معقول بنائیں۔بجائے اس کے کہ سیویوں کے پیالے تقسیم کئے جائیں ایک دعوت کا انتظام کیا ہے۔اسلام نے غرباء کے کھانے پینے کا ذمہ دار بیت المال کو قرار دیا ہے۔ھا، مگر ہمارے پاس چونکہ بیت المال اس قسم کا نہیں صرف چندہ پر ہی کام چلتا ہے سرکاری ٹیکس چونکہ سرکار وصول کرتی ہے اس لئے جو چندہ دے وہ بھی کم ہی دے سکتا ہے اس لئے میں نے سوچا کہ ہم میں یہ طاقت تو نہیں کہ سارا سال سب کا بوجھ اٹھا سکیں لیکن کم سے کم یہ انتظام تو ہونا چاہئے کہ عید کے روز ہر غریب کے گھر میں کھانا پہنچا سکیں۔ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ تحفہ تو رشتہ داروں اور دوستوں کو دیا جاتا ہے اور صدقہ غریبوں کو۔ہمسایوں کو بھی تحفہ دینے کا رواج نہیں۔عرب اور دوسرے اسلامی ممالک میں یہ رواج ہے اس لئے میں نے خیال کیا کہ اس دعوت میں بیت المال کی ذمہ داری کے علاوہ تحفہ کا رنگ بھی ہو۔عید کے روز دعوت عام ہو۔14 جس میں کچھ خرچ تو بیت المال سے ہو