خطبات محمود (جلد 1) — Page 227
۲۲۷ ہیں چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دُور کی چیز اچھی طرح انہیں دیکھ سکتا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ تنگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ جنگی معلوم ہوتی تھیں۔تو یہ بھی ایک لباس ہے اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔پھر وہ ایک لباس ہے جو ہندوستانی عورتیں پہنتی ہیں اور جو ایسے موٹے کپڑے کا ہوتا ہے کہ اگر اس میں سے سیال چیز چھائی جائے تو شاید نہ نکل سکے ایک تو ایسا موٹا کپڑا ہے اور دوسرا اتنا باریک کہ نظر کے لئے بھی روک نہیں بن سکتا مگر نام دونوں کا لباس ہے۔ای طرح صرف نماز روزہ کہہ دینا کافی نہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ ان کا مفہوم کیا ہے اور تفاصیل کیا ہیں۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔ایک طرف یہ نماز ہے جس میں اس حد تک غلو کیا جاتا ہے کہ سورج نکلا تو اس کی پرستش کے لئے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور شام تک دیکھتے ہی رہے ، ۳، یا گرمیوں میں ارد گرد الاؤ جلا کر بیٹھے رہے، سردیوں میں ٹھنڈے پانی میں کھڑے رہے ، ۲۴ گھنٹے اُلٹے ہی لٹکے رہے۔پھر ایک یہ نماز ہے کہ ساتویں دن گر جا میں جمع ہوئے ، کچھ شعر پڑھے گانا سنا، با جا بجایا کچھ وعظ بھی سن لیا اور گھر آگئے۔وعظ کے متعلق تو عام شکایت کی جاتی ہے کہ اس میں لوگ سوئے رہتے ہیں صرف اُسی وقت تک جاگتے ہیں جب تک یا بجا بجتا رہے یا گیت گائے جاتے ہوں۔وعظ کے وقت سو جاتے ہیں پھر اس میں بھی یہ تفریق ہے کہ امیر غریب الگ الگ بیٹھتے ہیں۔جس طرح تھیٹروں میں ٹکٹ ہوتے ہیں اور سیٹیں ریزرو ہوتی ہیں اسی طرح گرجوں میں بھی بڑے آدمیوں کے لئے کوچ ریز رد ہوتے ہیں۔اگر کوئی غریب آدمی اس پر جا بیٹھے تو پادری صاحب فورا اٹھا دیتے ہیں۔پھر ایک عبادت آریوں نے نکالی ہے وہ بھی ساتویں دن مندر میں جمع ہو کر گا لیتے اور چھینے وغیرہ بجا لیتے ہیں مگر یہ عبادت ایسی ہی ہے جیسے میرے ایک عزیز سنایا کرتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں میرے ایک دوست تھے جو میرے ساتھ رہا کرتے تھے۔ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ سخت مغموم ہیں گویا کوئی بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے۔میں نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگے مجھ سے بہت غفلت ہو گئی ہے امتحان سر پر ہے اور میں