خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 146

اور نہ اس کے لئے کوشش کرتے تھے۔بات تو جب ہے کہ انسان بھی خدا تعالیٰ سے ملنے کی کوشش کرے۔دیکھو اگر ماں بچہ سے محبت کرے لیکن بچہ اُس سے دُور بھاگے تو یہ ملاپ تو ہو گا مگر اس کے ساتھ ہی جُدائی بھی ہوگی۔ماں کی طرف سے ملاپ ہوگا اور بچہ کی طرف سے جدائی۔مگر عبد تب حقیقی عبد بنتا ہے جب دونوں طرف سے ملاپ ہو۔بے شک اللہ تعالی کی طرف سے انسان کے ساتھ ہر حالت میں ملاپ رہتا ہے خواہ انسان فسق و فجور کرے خواہ انبیاء کا انکار کرے حتی کہ خدا کا بھی انکار کرے پھر بھی خدا تعالیٰ اسے نہیں چھوڑتا۔وہ یہی کہتا ہے یہ میرا بندہ ہے میں اسے کیوں چھوڑوں۔۳۰ کیونکہ خدا تعالیٰ وفا میں کامل اور محبت میں پورا ہے۔کو تاہی اگر ہوتی ہے تو ہماری طرف سے ہی ہوتی ہے۔مگر عبد بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری طرف سے غفلت نہ ہو۔جس طرح خدا تعالیٰ ہم سے ملا ہوا ہے ہم بھی اس سے ملیں۔پس وہ عبد جس کے لئے واقعہ میں خوشی کا موقع ہو سکتا ہے وہی ہے جو اپنے مالک اور اپنے پیدا کرنے والے کے حضور جا گرتا ہے اور کہتا ہے میں تمام جُدائیوں کو چھوڑ کر تیرے آگے آگرا ہوں تو مجھے لے لے اور اپنے پاس رکھ لے۔جب یہ حالت ہو جائے تب عید حقیقی عید کہلا سکتی ہے۔پھر دوسری عید وہ عید ہے جب بنی نوع انسان آپس میں ملتے ہیں مگر ہر اجتماع خوشی کا موجب نہیں ہو تا۔دو دشمن اگر ایک جگہ جمع ہوں تو انہیں خوشی نہیں ہوگی بلکہ عداوت اور بڑھ جائے گی۔لوگ کہتے ہیں اگر دعوت کرنی ہے تو دو دشمنوں کو اکٹھا نہ کرو ورنہ دعوت کا مزا کر کرا ہو جائے گا۔تو بے شک اجتماع سے خوشی ہوتی ہے مگر سچی خوشی تبھی ہوتی ہے جب دلوں کا اجتماع ہو۔پس کچی اور حقیقی خوشی اس قوم کے لئے ہو سکتی ہے جو دو سروں کو اپنے اندر شامل کرتی، ان کو جذب کر لیتی اور اپنے ساتھ ملا لیتی ہے۔اور جو قوم دوسروں کو جذب نہیں کرتی اور یہ قابلیت اپنے اندر پیدا نہیں کرتی اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ عید منائے۔میں پوچھتا ہوں وہ کس بات پر عید منا سکتی ہے۔جب کہ اس کے بھائی اس سے جُدا ہوں اور اس کے بھائی ظلمت اور تاریکی میں پڑے ہوں۔پس دوسری عید انہی لوگوں کو منانے کا حق حاصل ہو سکتا ہے جو دن رات اس کوشش میں لگے ہوں کہ اپنے بھائیوں کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملالیں۔دیکھو دنیوی طور پر یورپ کے لوگوں میں کھینچنے اور جذب کرنے کی طاقت ہے وہ عید منا رہے ہیں یا نہیں ؟ ساری دولت کھینچ کر لے جا رہے ہیں اور مزے اُڑا رہے ہیں۔مگر یہ مادی طور پر کھینچنا