خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 121

IMI ہوا اس نے اس بچہ کو بوسہ نہ دیا۔اس پر دوسروں نے اسے ملامت کی۔آگے پیر صاحب نے ایک بھڑ بھونجے کو دیکھا جو بھٹی میں آگ جلا رہا تھا پیر صاحب نے آگے بڑھ کر آگ کو بوسہ دیا اور سب پیچھے کھڑے رہے لیکن وہ جس نے بچہ کو بوسہ نہ دیا تھا آگے بڑھا اور آگ کو بوسہ دیا۔اس وقت اس نے دوسروں کو کہا کہ پیر صاحب کو تو بچہ میں خدا کا جلوہ نظر آیا تھا اس لئے انہوں نے بوسہ دیا مگر تم نے اس کی شکل خوبصورت دیکھ کر بوسہ دیا کیونکہ جب وہی جلوہ پیر صاحب کو آگ میں نظر آیا تو تم پیچھے ہٹ گئے میں نے وہ جلوہ آگ میں دیکھا اس لئے میں نے اس کو بوسہ دینے میں اقتداء کی۔۲۲، تو بچے قبع ہر وقت نبی کے ساتھ رہتے ہیں لیکن جھوٹے آرام میں شامل ہوتے ہیں اور اس وقت نبی کا ساتھ دیتے ہیں جب کہ دکھ دور ہو جاتے ہیں اور دنیاوی آرام و آسائش کے دن آجاتے ہیں۔تم مومن بنو اور اس رمضان کے چاند کا حق ادا کرو۔اور مہینوں کے بھی حق ہوتے ہیں لیکن رمضان کے مہینہ کا حق یہ ہے کہ انسان بڑھ کر مالی اور جانی قربانی کرے۔پس تم ہر ایک قسم کی قربانیاں کرو کیونکہ تمہاری قربانیاں عید لائیں گی۔اس وقت اور لوگ خوش ہوں گے کہ عید آئی اور وہ فائدہ حاصل کرنا چاہیں گے حالانکہ تمہاری قربانیاں عید لانے والی ہوں گی۔تم شیر بنو جو خود شکار کو مارتا ہے اور کھاتا ہے وہ گیدڑ ہوں گے جو تمہارے بچے ہوئے گوشت سے کھائیں گے اور بعد میں تمہارے ساتھ شامل ہوں گے۔تمہاری عید صرف خوشی کے لئے نہ ہوگی بلکہ اس لئے ہوگی کہ خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی اور تم نے مومن بن کر رمضان میں نبی کے شروع زمانہ میں عسرت کے وقت اس کا ساتھ دیا اور اس تکلیف کے زمانہ میں خوشی ظاہر کی جس وقت چاروں طرف غم چھایا ہوا تھا۔پس بچے متبع اور مومن وہی ہیں جو عُسر اور ٹیر میں نبی کا ساتھ دیتے ہیں اور عمر میں بھی خوش ہوتے ہیں۔ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد کی حالت جب بیماری میں نازک ہو گئی تو حضرت خلیفہ اول جو نبض دیکھ رہے تھے ہاتھ آگے آگے بڑھاتے گئے یہاں تک کہ بغل تک ہاتھ لے گئے ادھر حضرت صاحب کو کہہ رہے تھے کہ حضور کستوری لائیں حضور کستوری لائیں لیکن جب نبض بالکل بند ہو گئی تو آپ صدمہ سے کھڑے نہ رہ سکے اور وہیں بیٹھ گئے۔لیکن حضرت صاحب نے جب دیکھا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے تو باوجود اتنی سخت محبت کے جو آپ کو اس کے ساتھ تھی آپ نے اس کی وفات پر بالکل کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر نہ کی اور لوگ آپ کی محبت کی وجہ سے جو آپ کو مبارک احمد کے ساتھ تھی خیال کرتے تھے کہ نہ