خطبات محمود (جلد 1) — Page 118
HA بڑھتا ہوا چودھویں کا چاند ہو گیا۔اس وقت بہت لوگوں نے دیکھا لیکن اس وقت بھی بہت تھے۔جنہوں نے نہ دیکھایا نہ دیکھنا چاہا اور اپنی آنکھوں کو نیچا کر لیا۔انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر نہ دیکھیں گے تو ہم پر الزام نہ آئے گا اور اس طرح ہم رمضان کے مہینے کے روزوں یعنی تکلیف کے دنوں سے بچ جائیں گے۔بہت ایسے لوگ ہیں کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ احمدیت کی تحقیق کرو تو وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم غور کریں گے اور تحقیق کریں گے تو ہم کو احمدی ہونا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی اور نہ ماننے سے الزام آ جائے گا اس لئے وہ اپنی آنکھ اٹھا کر رمضان چاند کو ہی نہیں دیکھتے تا روزوں سے بچ جائیں اور روزے نہ رکھنے پڑیں۔یہ وہ حیلہ تراشتے ہیں مگر ان کا یہ حیلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے کہ بہادر شاہ رمضان کا چاند نکلنے پر سفر کے بہانے دہلی سے چل پڑتے کچھ دن قطب صاحب کے پاس کاٹ کر ۲۹ تاریخ کو گھر واپس آجاتے۔لوگ کہتے یہ رمضان کا مہینہ تھا تو وہ تعجب سے کہتے پہلے کیوں نہیں بتایا ہم نہ جاتے۔11۔اسی قسم کے بہت سے لوگ ہیں جو جان بوجھ کر حق کو نہیں سمجھتے۔غرضیکہ چاند چڑھا یعنی مسیح موعود آیا اور بہت سے لوگوں نے دیکھا اور بہت نے نہ دیکھا اور الزام سے بچنے کے لئے آنکھیں نیچی کر لیں اور چاند کو نہ دیکھنا چاہا یہاں تک کہ وہ چاند چودھویں کا چاند ہو گیا۔تب بہتوں نے دیکھا پھر لیلۃ القدر کا زمانہ آیا اور تمام معاملات کا اس میں فیصلہ کیا گیا۔پھر آپ وفات پا گئے اور وہ دن آگیا جو ۲۹ کا دن ہے جس میں عید کی شدید انتظار ہوتی ہے۔اس وقت تک بچپن کا زمانہ رکھنے والے یہی کہتے رہے کہ اماں اماں چاند کہاں ہے اور عید کب ہوگی۔اور جب عید آئے گی تو بچوں کا سا مزاج رکھنے والے کہیں گے چاند دیکھ لیا۔چاند دیکھ لیا۔ہم نے بھی چاند دیکھ لیا۔لیکن رمضان کی خوشی اور سمرور ان لوگوں کو کہاں ملتا ہے جو صرف عید کے منتظر ہوتے ہیں۔میں تو یہ کہتا ہوں جنہوں نے پہلی رات کا چاند نہ دیکھا اور دوسری رات کا چاند دیکھا ان کے لئے اتنی خوشی نہیں جتنی کہ پہلی رات کا چاند دیکھنے والوں میں ہوتی ہے کیونکہ نظر کی تیزی پہلی رات کا چاند دیکھنے والے کی ہی تسلیم کی جاتی ہے۔جو فخر کا حق اَلسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ على کو حاصل ہوتا ہے کسی اور کو نہیں ہوتا کیونکہ پہلی رات کا چاند دیکھا ہوتا ہے اور نبی کے زمانے کے رمضان میں انہوں نے بھوک اور پیاس کی تکلیف اٹھائی ہوتی ہے۔پس تم ان کی قدر کرو جنہوں نے اس زمانہ میں پہلی رات کا چاند دیکھا۔ایک بچے کی طرح عید کی انتظار ہی نہ کی بلکہ