خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 112

١١٢ (۱۳) (فرمود ۲۰۔مئی ۱۹۲۴ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔قادیان) آج کا دن اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام نے فطرت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ انسان اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل کر کوئی خوشی کا دن منائے ، عید کا دن مقرر کیا ہے لے اور اس فطرتی خوشی کے اظہار کے لئے باقی اقوام نے بھی اپنی اپنی خوشی کے منانے کے لئے کوئی نہ کوئی دن مقرر کیا ہوا ہے لیکن ان کے دن ایک تو مشروع نہیں دوسرے ان میں ایسا اجتماع کا رنگ نہیں جیسا کہ اسلام نے عید کے دن میں اجتماع کا رنگ رکھا ہے۔اسی طرح اسلامی عید ان اقوام کی خوشیوں کے دنوں کی نسبت ایک اور خصوصیت اپنے اندر رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں خطبہ اور نماز کی زیادتی ہے۔عید کی نماز کے بعد آنحضرت مالی و خطبہ پڑھا کرتے تھے۔، اور اس کی غرض یہ ہوتی تھی کہ جہاں لوگ عید کے دن کی خوشی منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں وہاں خدا کی باتیں سننے کے لئے بھی جمع ہوں۔تو دوسری قوموں کی عیدیں صرف کھانے پینے کی اور لہو و لعب کی ہوتی ہیں لیکن ہماری عیدوں میں دوسرے دنوں سے بھی زیادہ ذکر الہی کا حصہ ہے یہ بات کسی اور مذہب کی عید میں نہیں پائی جاتی۔ان عیدوں کی پہلے سے تیاری اور انتظار شروع ہو جاتی ہے۔خاص کر ۲۹ تاریخ کا روزہ لوگوں میں بہت بے قراری پیدا کر دیتا ہے اور یہاں تک بے قراری ہوتی ہے کہ وہ ضعیف البصر لوگ جو کہ نزدیک کی چیز کو بھی اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے ۲۹ تاریخ کو اپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاند کو دیکھتے ہیں۔ان کے اندر ایک ولولہ اور شوق پیدا ہو جاتا ہے کہ کسی طرح وہ ۲۹ تاریخ کو ہی چاند دیکھ لیں۔پھر وہ لوگ جو عینکوں کے بغیر دیکھ نہیں سکتے وہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو ۲۹ کا ہی چاند نظر آ جائے اور وہ عید منالیں۔اسی طرح وہ بچے جن کی تمام خوشیاں عید منانے میں ہوتی ہیں وہ رمضان کی پہلی تاریخ سے ہی پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ اماں عید کب ہوگی اس کے لئے بے قراری ظاہر کرتے ہیں اور بڑی بے صبری سے ایک ایک روزے کو گزارتے ہیں۔غرضیکہ عید کے لئے بچے بھی بے قراری سے انتظار کرتے ہیں اور بڑے بھی ۲۹