خطبات محمود (جلد 1) — Page 101
١٠١ ہوا کرتی ہے۔مستیاں بہت ہو چکیں۔اب وقت ہے تم میں سے چھوٹا بڑا بے پڑھا اور عالم سب خدمت دین کے لئے کھڑے ہو جائیں۔تم میں جاہل کوئی نہیں بے پڑھے لکھے ہونا جہالت نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھے لکھے نہ تھے۔۲۳ ، جاہل وہ ہے جس کو خدا کی معرفت نہ ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام نے خوب کہا ہے کہ انسان روٹی سے زندہ نہیں رہتا بلکہ خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔۲۴۔پس تمہیں عرفان حاصل ہے۔تمہیں خدا کی طرف سے ایک دولت ملی ہے اور تمہیں ایک قوت اور ہتھیار دیا گیا ہے۔اگر تم اس طاقت اور ہتھیار کو استعمال نہیں کرو گے تو وہ طاقت ضائع ہو جائے گی اور ہتھیار نا کارہ ہو جائے گا کیونکہ جس چیز کو حرکت نہ دی جائے وہ ناکارہ ہو جاتی ہے۔اگر ہاتھ کو بے جنبش رکھا جائے تو وہ شل ہو جاتا ہے۔پس تمہیں جو روحانی طاقت ملی ہے تم اس کو خرچ کرو۔ورنہ اگر تم خدا کے رستہ میں خرچ نہیں کرو گے اور محتاجوں کو نہیں دو گے تو اس طاقت سے محروم ہو جاؤ گے۔پس ہمت کرو اور بڑھتے چلے جاؤ اور دنیا کے کناروں تک جا کر خدا کے نام کو پھیلا دو۔اس راستہ میں تمہیں جو بھی قربانی کرنی پڑے اس سے مت گھبراؤ اور نہ رُکو۔اگر تمہیں اس راہ میں اپنی عزیز سے عزیز چیز قربان کرنی پڑے تو کرو اور صرف ایک مقصد لے کر کھڑے ہو جاؤ اور اس عرفان کے خزانے کو دنیا میں پہنچاؤ جس کے لئے احادیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود خزانے تقسیم کرے گا مگر لوگ لیں گے نہیں۔۲۵ مسیح موعود علیہ السلام نے تمہیں قرآن کے خزانے دیئے ہیں۔ان کو تمام دنیا میں پہنچا دو اور پھیلا دو۔اس وقت ضرورت ہے کہ تمام دنیا سے سلوک کرو۔خواہ بادشاہ ہوں یا امیر وہ سب تمہارے محتاج ہیں۔در حقیقت کوئی خوشی مکمل نہیں ہوتی جب تک بھائی بند بھی خوش نہ ہوں چونکہ تمام دنیا کے باشندے خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی ، ہندو ہوں یا سکھ وہ سب ہمارے بھائی ہیں کیونکہ ہمارے دادا آدم کی اولاد ہیں اس لئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمیں تو خدا مل گیا ہو اور ہم ان سے غافل ہو جائیں اور ان کی پرواہ نہ کریں۔میں نصیحت کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ تم ان خزانوں کو جو تمہیں دیئے گئے ہیں دنیا میں پہنچاؤ اور وہ طاقتیں جو تمہیں دی گئی ہیں استعمال میں لاؤ۔تم مت آرام لو جب تک کہ خدا کے دین کو دنیا کے کناروں تک نہ پہنچا دو کیونکہ تمہاری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی جب تک کہ ہر ایک کو خدا کے حضور میں