خطبات محمود (جلد 1) — Page 100
آج عید ہے۔تم نے صدقہ و خیرات کیا ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کیا ہے مگر دنیا کا بہت بڑا حصہ ہے جو ظاہر میں عید کرتا نظر آتا ہے لیکن دراصل ان کے گھروں میں ماتم ہے۔وہ خدا سے جدا ہیں اور خدا ان سے جدا ہے۔انہوں نے خدا کی رحمت کے دامن کو چھوڑ کر اپنے تیں ہلاک کر دیا اور ان کی حالت یہ ہے کہ گویا وہ سانپ یا شیر کے منہ میں چلے گئے۔تمہارا ہاتھ خدا نے اپنے مامور کے ہاتھ میں دے دیا اس لئے آج تمہارے سوا کسی کی عید نہیں۔تم سے زیادہ کس کی عید ہوگی جنہوں نے خدا کے مامور اور مرسل کا زمانہ پایا اور اس کو قبول کیا۔تمہارا خوشیاں منانا جائز ہے کیونکہ تم نے اس مامور کا زمانہ پایا ہے جس کا انتظار کرتے کرتے اُمتیں گزر گئیں اور جس کی آمد کی بشارتیں نبیوں نے دیں۔تم نے اس کو شناخت کیا اس لئے 1 عید تمہاری ہی عید ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ تم ان غریبوں کی طرف دیکھو جو خدا سے بیگانہ ہیں اور انہوں نے خدا کے بندوں کو خدا بنا لیا۔وہ بندہ جو خدا کے بندوں میں بھی بہت بڑا نہیں بلکہ کئی سے چھوٹا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یقیناً چھوٹا ہے۔پس ان کی کیا عید ہو گی جو بچے خدا کو چھوڑ کر بندوں کو خدا بنا بیٹھے ہیں۔ان کے لئے تو یہ عید کا دن نہیں۔مگر جن دنوں میں ہمارا جلسہ ہوتا ہے وہ ان کی عید کا دن ہوتا ہے۔19۔ان کے لئے کیا خوشی کی بات ہے۔کیا وہ لوگ خوش ہو سکتے ہیں جن کے ایک انسان کو خدا بنانے پر خدا تعالیٰ اس قدر ناراض ہے کہ فرماتا ہے۔ان کو وہ عذاب دوں گا جو پہلے کسی کو نہ دیا۔۲۰ پس ان کی حالت قابل رحم ہے گو یورپ کے بڑے بڑے لوگ بظاہر خوش نظر آتے ہیں اور ان کی دنیاوی حیثیت بڑی ہے مگر وہ تمہاری نظروں میں مردہ ہیں۔ان کی حالت پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو خدا کی طرف لانا چاہئے۔پھر مسلمان کہلانے والے جو آج عید منانے میں ہمارے ساتھ شامل ہیں ان کی حالت بھی قابل رحم ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے اس مرسل کا انکار کیا ہے جس کو رسول کریم نے سلام کیا۔۲۱۔اور وہ جن کی قبروں پر سجدہ کرتے ہیں ان کی خواہش تھی کہ کاش ان کی غلامی ہمیں مل جائے۔وہ بزرگ جن کو یہ بڑا ہی بزرگ خیال کرتے ہیں اپنی زندگی میں مسیح موعود علیہ السلام کا انتظار کیا کرتے تھے۔۲۲ مگر جب وہ آیا تو ان لوگوں نے قدر نہ کی اور مسیح موعود سے تعلق نہ کیا۔پھر ان کے لئے کیسی عید ہے جن کو خدا کی طرف سے دعوت کا پیغام آیا اور انہوں نے اس کو رد کر دیا وہ خدا کے حضور مجرم ہیں اور کہیں مجرموں کے لئے بھی عید