خطبات محمود (جلد 1) — Page 74
جوش دم بہ دم بڑھتا گیا اور عیسائیوں میں خوشی کے نعرے شروع ہو گئے۔اس وقت کا یہ رواج تھا کہ پہلے دونوں طرف سے ایک ایک شخص مقابلہ کے لئے نکلا کرتا تھا۔جب مسلمانوں کے کئی آدمی شہید ہو گئے تو مسلمانوں نے بھی اس بات کو محسوس کیا۔اس وقت مسلمانوں کی طرف سے ضرار بن ازور نکلے جو مسلمانوں میں ایک بڑے جری سپاہی اور اعلیٰ درجہ کے افسر تھے وہ اس کے مقابلہ میں گئے لیکن فورا واپس چلے آئے اور اپنے خیمہ میں داخل ہو گئے۔چونکہ وہ رسول اللہ کے صحابی اور ایسے اعلیٰ درجہ کے بہادر سپاہی تھے اس لئے ان کے بھاگنے سے مسلمانوں میں تحیر اور عیسائیوں میں خوشی پھیل گئی۔ایک صحابی ان کے پیچھے آئے اور ان سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں موت کے ڈرا سے بھاگا ہوں؟ نہیں یہ بات نہیں بلکہ میری عادت ہے کہ میں ہمیشہ بے زرہ لڑائی پر جایا کرتا ہوں لیکن آج اتفاق سے میں نے زرہ پھٹی ہوئی تھی۔اب اس عیسائی نے جو اتنے مسلمانوں کو شہید کیا اور میں اس کے مقابلہ میں گیا تو مجھے خیال آیا کہ اگر میں آج اس کے ہاتھ سے اس حال میں مارا گیا کہ میرے جسم پر زرہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا اور کیا جواب دوں گا کہ میں نے تیرے حضور میں حاضر ہونے سے بچنے کے لئے زرہ پہنی تھی۔پس میں نے خیال کیا کہ یہ تو منافقت کی موت ہوگی اس لئے میں بھاگا کہ زرہ اتار دوں۔اب میں نے زرہ اُتار دی ہے اور لڑنے جاتا ہوں۔چنانچہ اس طرح وہ اس کے مقابلہ میں گئے اور اس کو مار لیا۔A تو مومن تو وہ ہے جو خدا کی راہ میں موت کو عید سمجھتا ہے۔نادان ہے جو ظاہری خوشی پر خوش ہے مومن کو موت بھی ناخوش نہیں کر سکتی۔مومن مرتا ہے تو اس کی عید ہوتی ہے ، جیتا ہے تو اس کی عید ہوتی ہے اس کی رات بھی اس کے لئے عید کا دن ہے اور اس کا دن بھی عید کا دن ہے کیونکہ حقیقی عید اللہ سے تعلق ہوتا ہے اور جس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جاتا ہے اس کی ہر ساعت خوشی کی ساعت ہوتی ہے اور جب تک یہ نہ ہو منافقت کی عید ہے۔نجاست پر اگر چاندی کے ورق بھی چڑھا دیئے جائیں تو اس کی بدبو اور اس کی خرابی میں فرق نہیں آ سکتا۔ورق لگانے سے اس میں لطافت و شیرینی نہیں پیدا ہو سکتی۔پس محض ظاہری درستگی اصلی خوبیاں پیدا نہیں کر سکتی اس کے لئے ضروری ہے کہ اندرونہ پاک و صاف اور خوبصورت ہو۔پس جس دل کا اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں وہ رنج میں ہے اور جو رنج میں ہے اس کی کوئی عید نہیں۔