خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 57

طاقت کا ناز تھا اس کو مقہور و مغلوب کر کے دکھا دیا گیا کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔مگر آج دشمن تلوار نہیں اٹھاتا بلکہ اسلام پر طعن کرتا اور ہنستا ہے کہ اسلام نے تلوار کے زور سے ہمارے بدن اور جسم کو مغلوب کیا تھا نہ کہ ہمارے دلوں کو۔اسلام ہمارے دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ہماری سائنس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔وہ نادان نہیں سمجھتا ضد اور تعصب کی پٹی اس کی آنکھوں پر بندھی ہوئی ہے اور وہ جھوٹی محبت میں ایسا اندھا ہوا ہے کہ حق پوشی کرتا ہے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ اسلام نے تلوار بھی دفاعی رنگ میں اٹھائی اور خود حفاظتی کے لئے پکڑی جب کہ کفار کے مظالم کی کوئی انتہا ہی نہ رہی تھی۔مگر اللہ تعالٰی نے دشمن کو یہ پہلو بھی دکھا دیا اور مسیح موعود کے ذریعہ سے جو آنحضرت میں تعلیم کے ایک غلام ہیں اس کو دلائل و براہین کے مقابلہ میں مغلوب و مقہور کر کے بتا دیا کہ وہ اس میدان میں بھی اسلام کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔مگر گو اصولی طور پر اسلام کے دشمنوں کو مسیح موعود کے وقت میں شکست دے دی گئی مگر اب سب دنیا میں ان ہتھیاروں کے ذریعہ سے جو مسیح موعود نے ہمیں بہم پہنچائے ہیں اسلام کا پھیلانا ہماری جماعت کا کام ہے۔اور خوش قسمت ہیں وہ جن کے ذریعہ سے اور جن کی سعی اور کوشش سے یہ کام انجام پذیر ہو گا۔یہ فکر تو دور ہو چکی کہ اسلام غالب ہو گا یا نہیں۔اسلام غالب ہو گا اور ضرور غالب ہو گا۔مگر سوال یہ ہے کہ کس کے ذریعہ سے اور کس کی وساطت سے۔موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق دی ہے۔مگر کیا ہمارے حالات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں؟ کیا ہماری کوششیں بھی ہمیں اس بات کا مستحق بناتی ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ کام پورا ہو ؟ ہر شخص اپنے حالات پر غور کر کے دیکھے کہ کیا اس کی قربانی دین اسلام کی خدمت کے لئے ایسی ہی ہے کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کیا جاوے۔اکثروں کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ بات یوں نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ با ہم کینہ و فساد جھگڑا و عناد ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جانا، اتفاق و اتحاد کی بھی پرواہ نہ کرنا موجود ہے۔حالانکہ ضرورت تھی اور وقت تھا کہ اتفاق و اتحاد کے لئے اپنی ذاتی اغراض کو ترک کیا جاتا اور اتحاد کے واسطے اپنے اغراض کو قربان کر دیا جاتا۔ذرا ذراسی بات پر ابتلا آ جاتے ہیں۔انتظام نہیں ہے ، قربانی کا مادہ نہیں، اتنا بھی نہیں جتنا ان دنیوی سپاہیوں میں پایا جاتا ہے۔ان کا افسران کو خواہ کیسے ہی خطرناک موقع پر جانے کا حکم دے انکار