خطبات محمود (جلد 1) — Page 460
ناظروں نے سارا سال تمہاری سفارشیں کی ہیں لیکن آج انہیں اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی تکلیف مجھے ہوئی ہے۔مگر یہ مصیبت تمہارے اپنے ہاتھوں اور ناظروں کے ہاتھوں کی پیدا کی ہوئی ہے۔یاد رکھو ناظر تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں اور تم ان کے سب سے بڑے دشمن ہو۔جب وہ تمہاری سفارش کرتے تھے تو وہ جھوٹ بولتے تھے اور جب تم ان کی تعریف کرتے تھے تو تم جھوٹ بولتے تھے ناظر سمجھتے تھے کہ ہم نے انہیں دینا لینا کچھ نہیں صرف خلیفہ المسیح پر الزام لگاتا ہے وہ تمہاری پیٹھ ٹھونکتے تھے اور تم ان کی تعریفیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ہی ہمارے مائی باپ ہیں۔اب کہاں ہیں ناظر۔اب لائیں وہ روپیہ۔اگر تم میری نصیحت پر عمل کرتے تو یہ دن نہ آتا۔آج وہ اپنی بیویوں کے پاس خوش خوش بیٹھے ہیں اور تم عید پر تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے افسردہ اور غمگین ہو۔آج وہ روپیہ کیوں نہیں لاتے۔یہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں والی بات ہے جب فرعون نے بعض لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے بلایا تو انہوں نے رسیاں پھینکی جو سانپوں کی شکلیں اختیار کر گئیں لیکن موسیٰ علیہ السلام نے عصا پھینکا تو وہ سب سانپ غائب ہو گئے۔۳۔آج ان ناظروں کی خیر خواہیاں کہاں گئیں۔اگر وہ اپنی خیر خواہی میں بچے تھے تو وہ آج روپیہ لاتے اور اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دیتے۔وہ صرف ظاہری طور پر تمہیں خوش کرنا چاہتے تھے۔وہ بطور نمائش تمہارے ساتھ خیر خواہی کا اظہار کر رہے تھے۔اگر انہیں درد ہوتا تو وہ اس قسم کی سفارش پیش نہ کرتے اور اگر تمہیں خیال ہو تا تو تم ان کی بات نہ مانتے۔تم دونوں نے غداری کی ہے، ناظروں نے بھی غداری کی ہے اور تم نے بھی غداری کی ہے جو اب تم پر پڑ رہی ہے۔اگر تم اب بھی نہ سمجھو گے تو تم اور زیادہ تکلیف میں مبتلاء ہو گے۔اس سال بھی تمہارے ناظروں نے ایک لاکھ روپیہ کی سفارش شروع سال میں کی تھی اور اگر میں وہ ایک لاکھ روپیہ دے دیتا تو تمہیں اگست میں بھی مئی کی تنخواہیں نہ مل سکتیں۔تم اب بھی سمجھ جاؤ اگر تمہیں سلسلہ کا درد ہے اگر تمہیں سلسلہ سے محبت ہے، اگر تم سلسلہ کی خاطر قربانی کر کے یہاں آتے ہو تو کام زیادہ کرو عملہ کو کم کرو دوسروں کے لئے نمونہ بنو ان کے لئے فتنہ کا موجب نہ بنو۔لوگ زیادہ چندے دیں گے تو تمہاری سچ سچ عید آجائے گی۔آج کوئی عید نہیں ، یہ تمہاری خطا ہے ، تمہارا جرم اور قصور ہے کہ ہم شروع سال میں ہی کارکنوں کو تنخواہ نہیں دے سکے۔مہینہ کے ۲۴ دن گزر چکے ہیں ان میں اگر اتنی آمد نہیں ہوئی کہ ہم کارکنوں کو تنخواہیں دے سکیں تو باقی چھ دنوں میں