خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 452

۴۵۲ (۴۲) ( فرموده ۲۴ جون ۱۹۵۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ) چونکہ مجھے رات سے دورانِ سر کی تکلیف ہے اس لئے میں کھڑے ہو کر خطبہ نہیں پڑھ رہا بلکہ مختصراً بیٹھ کر خطبہ پڑھوں گا۔آج عید کا دن ہے لیکن ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا یہ عید ہمارے لئے بھی عید ہے۔دنیا میں ہر چیز کئی نسبتیں رکھتی ہے۔مثلاً ایک دشمن مارا جاتا ہے تو مومنوں کے گھروں میں عید ہوتی ہے لیکن کافروں کے گھروں میں عید نہیں ہوتی ان کے گھروں میں تو ماتم ہوتا ہے۔بدر کی جنگ ہوئی تو بہت سے کفار اس میں مارے گئے حتی کہ مکہ کا کوئی گھر ایسا نہ رہا جس کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار اس جنگ میں نہ مارا گیا ہو۔مسلمانوں کے لئے وہ ایسی عید ہے کہ آج تک ہم اسے عید قرار دیتے ہیں ، لیکن کفار کے لئے یہ دن اتنے غم کا تھا کہ جب تک وہ مسلمان نہیں ہو گئے ان کے لئے یہ دن ماتم کا دن رہا۔چنانچہ اس جنگ کے اثر کو مکہ والوں نے اتنا محسوس کیا کہ روسانے مل کر ایک میٹنگ کی اور اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ کوئی آدمی بدر کے مقتولوں پر نہ روئے۔انہیں خیال تھا کہ اگر وہ بدر کے مقتولوں پر روئیں گے تو مسلمان خوش ہوں گے چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص بدر کے مقتولوں پر روئے گا اسے سو اونٹ بطور ڈنڈ دینے ہوں گے۔اب دیکھو سکے والے اس زخم کو کتنا محسوس کرتے تھے کہ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ باوجود منع کرنے کے بھی لوگ بدر کے مقتولوں پر روئیں گے اور ان کی بات نہیں مانیں گے اس لئے انہوں نے ایک سو اونٹ مُجرمانہ مقرر کیا تا اس جرمانہ کے خوف سے لوگ اپنے غم کو دبائے رکھیں۔چنانچہ مکہ والوں نے اس مجرمانہ کے خوف سے اور قوم کی ناراضگی سے بچنے کے لئے صبر سے کام لیا۔وہ بولے نہیں۔انہوں نے گھروں سے باہر آکر رسم و رواج کے مطابق ماتم نہیں کیا لیکن وہ گھروں کے دروازے بند کر کے روتے تھے۔ایک شخص کے جنگ بدر میں دو بیٹے مارے گئے تھے وہ قوم کے ڈر کے مارے باہر نکل کر نہیں روتا تھا۔لیکن اندر بیٹھ کر روتا تھا وہ خوب رویا لیکن اسے پھر بھی صبر نہ آیا۔عرب میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کا کوئی عزیز مرجاتا تو وہ باہر نکل کرئین کرتا تھا اس طرح اس کے گھر والے