خطبات محمود (جلد 1) — Page 435
۴۳۵ وعظ و نصیحت کرنے کی جرات کر سکتا ہوں لیکن بادشاہ سلامت! میں دل میں اسے برا منا رہا ہوں۔غرض ہر فعل کا ایک درجہ ہوتا ہے لیکن کم از کم آخری درجہ تو انسان کو حاصل ہونا چاہئے۔میں نے ایک امریکن شاعرہ کے شعر پڑھے ہیں اس نے اپنے شعروں میں ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا ہے۔وہ کہتی ہے مرنے کے بعد جب میں خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گی تو امیر لوگ اپنے لعل و جواہر جو انہوں نے صدقہ کئے ہوں گے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے اور جن لوگوں نے قومی خدمت کی ہو گئی وہ اپنی اس خدمت کو اس کے حضور پیش کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے یہ کیا۔اس وقت میں پاس کھڑی ہوئی حسرت سے دیکھ رہی ہوں گی نہ میرے پاس دولت تھی جو صدقہ کے طور پر دیتی اور نہ طاقت اور علم تھا کہ اس کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرتی لیکن میں نے خدا تعالیٰ کی محبت میں آنسو بہائے ہوں گے اور وہ اس کے تخت کے پاس پڑے ہوں گے اور میں وہی آنسوؤں کا تحفہ اس کے حضور پیش کروں گی اور اے مخاطب ! تو جانتا ہے کہ وہ کس کے تحفہ کو قبول کرے گا۔وہ میرے ہی آنسوؤں کو قبول کرے گا۔۲۵ اسی طرح اگر ایک مسلمان پہلی دو باتوں میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو کم از کم وہ خدا تعالی کے آستانہ پر گر کر آنسو تو بہا سکتا ہے۔اگر مسلمان یہ کام کر سکتے ہیں تو ان کی عید عید ہے ورنہ ان کی عید کوئی عید نہیں۔آج تبلیغ کا میدان خالی ہے وہ اگر چاہیں تو تبلیغ کے ذریعہ اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں۔آخر ہمارے نوجوان بھی تبلیغ کے لئے باہر جاتے ہیں وہ بھی جا سکتے ہیں۔بعض جگہوں پر ہمارے نوجوانوں نے جو کام کیا ہے اسے دیکھ کر لطف آتا ہے۔میرے ایک عزیز جو کرنل ہیں سنگا پور میں تھے۔ہم نے سنگا پور میں اپنا مبلغ بھیجا اور اسے اور اسے کہا جاؤ جس طرح بھی ہو سکے تبلیغ اسلام کرو۔وہ کہیں تبلیغ کر رہا تھا کہ کسی نے اسے مارا وہ زخمی ہوا اور اتنا زخمی ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اس کے زخموں میں کیڑے پڑ گئے۔۲۶ میرے اس عزیز نے بتایا کہ میں اسے اپنے پاس لے گیا اور زخموں کا علاج کر کے واپس کیا۔میں نے اس سے کہا تم یہاں کیوں آئے ہو اور اس قسم کے علاقہ میں تمہارا کیا کام ہے۔تو اس نے جواب دیا اگر ہم تبلیغ نہیں کریں گے تو یہ ہوگی کس طرح۔بہر حال کام کرنے والے کام کرتے ہیں۔اگر مسلمانوں کے اندر یہی تبلیغ کا جوش پیدا ہو جائے ، اگر ان کے اندر قربانی کا صحیح جذبہ پیدا ہو جائے اور اگر دوسرے لوگوں کے سامنے اسلام کی تعلیم کو صحیح طور پر پیش کریں ، رسول کریم اور صحابہ کی قربانیوں کو لوگوں کے سامنے لائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کا معتدبہ حصہ