خطبات محمود (جلد 1) — Page 426
۴۲۹ ه ہے ، اس کی روح مرجاتی ہے اور تصویر ہی تصویر باقی رہ جاتی ہے۔مثلاً خاکروب ہیں ان میں بھی ایسی روایات پائی جاتی ہیں کہ ان کے باپ دادا بادشاہ تھے۔سانسی قوم میں بھی ایسی روایات پائی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ جوتی نہیں پہنتے ان میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب انہیں دوبارہ بادشاہت ملے گی تب وہ جوتی پہنیں گے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ ان قوموں میں کسی زمانہ میں بادشاہت پائی جاتی تھی۔ہندوستان میں آرین قوم کے آنے سے پہلے Dravadian قوم بہتی تھی اور ممکن ہے سانسی اسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔لیکن انہوں نے صرف روایت ہی روایت یاد رکھی عملی طور پر کچھ نہ کیا اس لئے یہ چیز صرف ایک نقش بن کر رہ گئی۔آخر بادشاہت آسمان سے نہیں آیا کرتی بلکہ عمل کے نتیجہ میں ملا کرتی ہے مگر ان میں ہمیں کوئی عمل نظر نہیں آتا اور نہ ہی انہوں نے بادشاہت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوئی جدوجہد کی ہے جس کی وجہ سے یہ قوم مُردہ ہے زندہ نہیں۔پس کامیابیوں کو یاد رکھنا بے شک مفید ہے بشرطیکہ موجبات اور محرکات بھی پائے جاتے ہوں۔لیکن اگر موجبات اور محرکات نہ پائے جائیں اور ان کے نظر آنے پر خون میں گرمی پیدا نہ ہو اور مردہ رگوں میں زندگی کی ایک لہر نہ دوڑ جائے تو سمجھ لو کہ وہ قوم مُردہ ہے زندہ نہیں وہ محض ایک تصویر ہے اس میں حقیقت نہیں پائی جاتی۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری عیدوں کے پیچھے حقیقی خوشی کی بنیاد پائی جاتی ہے یا نہیں۔ہماری عید کے پیچھے حقیقی خوشی کی بنیاد پائی جاتی ہے تو وہ ہمارے لئے موجب برکات ہے اور اگر اس کے پیچھے حقیقی خوشی کی بنیاد نہیں پائی جاتی تو پھر ہر عید جو آئے گی ہمیں پہلے سال سے بھی زیادہ مُردہ بنا دے گی کیونکہ جو کام نقل کے طور پر کیا جاتا ہے وہ کرنے والے کے دل پر زنگ لگا دیتا ہے۔مثلاً کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو یا دوست کو دیکھ کر بناوٹی طور پر رونے لگ جائے تو وہ ایک دفعہ تو بناوٹی طور پر رولے گا لیکن دوسری دفعہ باوجود اس کے کہ وہ بناوٹی طور پر رو رہا ہو گا اس کی آنکھوں سے آنسو بھی بننے لگ جائیں گے لیکن ایکٹر اور ایکٹریسیس جو روتی ہیں تو ان کے اندر اس سے غم پیدا نہیں ہوتا۔ان کا رونا بھی مصنوعی ہوتا ہے اور اس کا رونا بھی مصنوعی ہوتا ہے لیکن ان دونوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو رونے کی عادت پڑ گئی ہے اور اسے عادت نہیں اس لئے بعض اوقات اگر بناوٹ کے طور پر بھی وہ غم کی حالت کو اپنے اوپر وارد کرتا ہے تو بیچ بیچ رنجیدہ ہو جاتا ہے۔پس اگر عید میں آئیں۔