خطبات محمود (جلد 1) — Page 425
۴۲۵ (۳۹) ( فرموده ۲۸۔جولائی ۱۹۴۹ء بمقام پارک ہاؤس۔کوئٹہ ) عید ایک ایسی چیز ہے جس کو ساری ہی قومیں مناتی ہیں کوئی اس کا نام تہوار رکھ لیتا ہے کوئی عید کہہ دیتا ہے اور کوئی کرسمس (Christmas) کے نام سے اسے یاد کر لیتا ہے۔بہر حال دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں عید نہیں پائی جاتی ہر قوم کسی نہ کسی طرح عید مناتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کا جذبہ فطرت انسانی میں رکھا گیا ہے اگر یہ جذبہ فطرت میں نہ رکھا ہوتا تو ہر جگہ اور ہر قوم میں عید کیوں منائی جاتی۔سینکڑوں اور ہزاروں سال تک بنی نوع انسان آپس میں جدا جدا رہے۔امریکہ والے دنیا کے دوسرے لوگوں سے اس وقت تک نہیں مل سکے جب تک کہ کولمبس نے اسے دریافت نہ کر لیا۔آسٹریلیا والے بھی ایک وقت تک دوسرے لوگوں سے نہ مل سکے مگر باوجود اس کے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پرانے باشندوں میں بھی عید کی رسم پائی جاتی تھی۔اسی طرح افریقہ کے پرانے باشندوں میں بھی بعض تہوار پائے جاتے ہیں غرض عید کے موجبات خواہ مختلف ہوں اس کا وجود ہر قوم اور ہر ملک میں پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کا تعلق فطرت کے ساتھ ہے۔اسلام نے بھی سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔جن میں سے ایک کا نام عید الفطر ہے اور دوسری کا نام عید الاضحیہ۔ان کے علاوہ رسول کریم میلی لیلا و لیلی نے جمعہ کے دن کو بھی مسلمانوں کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے۔اے گویا اسلام دوسری قوموں اور مذاہب سے عید کے لحاظ سے بھی بڑھ کر ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ عید کہتے کس کو ہیں ؟ آخر کوئی وجہ بھی ہے جس سے ہر قوم اور ہر مذہب میں عید رکھی گئی ہے۔عید اس لئے رکھی گئی ہے کہ انسان اگر ہمیشہ رنج کی طرف ہی دیکھتا ہے رہے تو اس کے قومی مضحل ہو جائیں۔کبھی کبھی اس کی نظر اپنے اعلیٰ مقاصد اور کامیابیوں کی طرف بھی جانی چاہئے اگر وہ اپنی کامیابیوں کو یاد کرتا رہے اور اپنے مقاصد کو سامنے رکھے تو اس کا حوصلہ بڑھتا چلا جائے گا اور اس طرح قوم مرنے نہیں پائے گی۔اگر عید نہ منائی جائے یا عید منائی تو جائے لیکن اس کے موجبات نہ ہوں صرف روایت ہی روایت ہو تو قوم مُردہ ہو جاتی کا