خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 423

۴۲۳ اور مذہبی غم کو اپنے ذاتی غموں پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے عزم اور استقلال میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ مصیبت اس کے عزم کو اور بھی بڑھا دیتی ہے اور اس کے استقلال کو اور بھی زیادہ کر دیتی ہے اس لئے نہیں کہ وہ تسلی پا گیا ہے بلکہ اس کے لئے کہ اگر کوئی شخص دونوں جذبات کو محسوس کرتا ہے تو وہ حقیقی مومن ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں وہ حقیقی انسان ہے کیونکہ انسان کا کمال بھی اُسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ دل سے دکھ محسوس کرے اور اپنے ظاہر کو خدا کے تابع کرے۔اس وقت دنیا میں ہزاروں قصبات اور شہر ایسے ہیں جن میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی مسجد میں ویران پڑی ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔بنانے والوں نے تو انہیں اس لئے بنایا تھا کہ ان میں خدا تعالیٰ کا ذکر کیا جائے لیکن اب وہ ویران اور غیر آباد پڑی ہیں اب جب تک یہ تمام مسجدیں پھر اسلام کی عظمت کا ایک زندہ نشان نہ بن جائیں جب تک قرآن کی حکومت پھر دنیا میں قائم نہ ہو جائے اُس وقت تک اگر کوئی شخص صرف ظاہری عید پر ہی خوش ہو جاتا ہے اور نئے کپڑے پہن کر سمجھ لیتا ہے کہ اس نے عید منان لی ہے تو وہ بے غیرت ہے اسی طرح وہ انسان جو ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے وہ بھی نہایت ہی ذلیل اور بزدل انسان ہے۔بے شک ہمارے خدا نے ہمیں ظاہری طور پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے اور اس لئے ہم خوشی مناتے ہیں لیکن ہمیں حقیقی خوشی اس وقت حاصل ہو گی جب دنیا میں ہر جگہ اسلام پھیل جائے گا۔جب مساجد ذکر الہی کرنے والوں سے بھر جائیں گی اور جب محمد رسول اللہ می لال لال ہے اور قرآن کی حکومت دنیا کے چپہ چپہ پر قائم ہو جائے گی۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ہمارے اندرونی زخم کبھی مندمل نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ہمارے زخم اگر کبھی مندمل ہونے لگیں تو چاہئے کہ ہم اپنی انگلیوں سے ان زخموں کو پھر ہرا کر لیں کیونکہ ہماری سب سے بڑی عید اُسی وقت ہوگی جب اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے گا اور دنیا کے کونہ کونہ سے اللہ اکبر کی آواز میں اُٹھنا شروع ہو جائیں گی۔(الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۶۱ء) صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابه باب من فضائل أبي طلحة الانصاري صحیح بخارى كتاب الجنائز باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة