خطبات محمود (جلد 1) — Page 415
۴۴۱۵ عورتیں بھی وہاں بیٹھی تھیں اتنے میں زلزلہ آیا۔ہماری نانی صاحبہ مرحومہ نے کہا زلزلہ آیا ہے۔یہ سن کر اس عورت نے اپنا ہاتھ نانی صاحبہ مرحومہ پر رکھا اور کہنے لگی۔بی بی گھبراؤ نہیں زلزلہ نہیں آیا بلکہ میرا سر چکرا رہا ہے۔ایسی ہی حالت اس انسان کی بھی ہوتی ہے۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس عورت نے تو کہا تھا کہ میرا سر چکرا رہا ہے مگر اس ابتلاء کے وقت لوگ سمجھتے ہیں سلسلہ کا سر چکرا رہا ہے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ پودا جو خدا تعالٰی نے لگایا ہے وہ بڑھے گا، پھلے گا اور پھولے گا کہ اور اس کو کوئی آندھی تباہ نہیں کر سکتی۔ہاں ہماری غفلتوں یا ہماری ستیوں یا ہماری لغزشوں کی وجہ سے اگر کوئی ٹھو کر آجائے تو وہ ہمارے لئے ہوگی سلسلہ کے لئے نہیں ہوگی۔جب ہم اپنے توازن کو درست کر لیں گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کر لیں گے تو وہ حوادث خود بخود دور ہوتے چلے جائیں گے بلکہ وہ حوادث ہمارے لئے رحمت اور برکت کا موجب بن جائیں گے۔رسول کریم میں یا ہم نے جب مکہ سے ہجرت کی تو لوگوں نے سمجھا کہ ہم نے ان کے کام کا خاتمہ کر دیا ہے اور یہ حادثہ محمد اور اس کے ساتھیوں کے لئے زبردست حادثہ ہے لیکن جس کو لوگ حادثہ سمجھتے تھے کیا وہ حادثہ ثابت ہوا یا برکت۔دنیا جانتی ہے کہ وہ حادثہ ثابت نہ ہوا بلکہ وہ الہی برکت بن گیا اور اسلام کی ترقیات کی بنیاد اس پر پڑی۔پس ہماری جماعت کو اپنے ایمانوں کی فکر کرنی چاہئے اگر تم اپنے ایمانوں کو بڑھا لو گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کر لو گے تو تمہارے لئے سال میں صرف دو عیدیں ہی نہیں آئیں گے بلکہ ہر نیا دن تمہارے لئے عید ہو گا اور ہر نئی رات تمہارے لئے نیا چاند لے کر آئے گی۔تم خدا تعالیٰ کی برگزیدہ جماعت ہو اور خدا تعالیٰ اپنی برگزیدہ جماعت کو اٹھانے اور بڑھانے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اگر کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو ہماری طرف سے ہوتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ جب تک نہ روئے ماں اُسے دودھ نہیں پلاتی لیکن ماں کی چھاتیاں ہر وقت بچے کو دودھ دینے کے لئے تیار رہتی ہیں جو نہی بچہ روتا ہے ماں اسے اٹھا کر اپنی چھاتی سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلانے لگتی ہے۔پس اللہ تعالی کے حضور ہر وقت دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو۔ابھی تمہارے زخم تازہ ہیں اس لئے میں ان زخموں کو چھیڑنا نہیں چاہتا ورنہ میں تمہیں بتاتا کہ جو حادثات ہوئے ہیں کہ ان میں تمہاری اپنی بھی بہت سی ذمہ داری ہے مگر چونکہ میں تمہارے زخموں کو چھیڑنا اس وقت پسندیدہ نہیں سمجھتا اس لئے چشم پوشی سے کام لیتا ہوں لیکن میں تمہیں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ تمہیں