خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 407

ہنس رہے انْتَ الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِيًا وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورًا کہ تو وہ شخص ہے کہ تیری ماں نے تجھے جنا اور تو رو رہا تھا اور لوگ تیرے ارد گرد خوشی سے تھے حالانکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ لوگ روتے کو دیکھ کر رونا شروع کر دیتے یا دکھ محسوس کرتے ہیں اور اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن شاعر کہتا ہے کہ تیری یہ حالت تھی کہ تو رو رہا تھا اور غاغا کر رہا تھا لیکن تیرے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ خوشی کے مارے ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے کہ لڑکا ہوا مبارک ہو مبارک ہو۔گویا تیرے ساتھ تمسخر کرتے تھے۔فَاحْرِصْ عَلَى عَمَل تَكُونُ إِذَا بَكَوا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكَا مَّسْرُورًا ۲۵ دیکھ تیرے رشتہ داروں نے کس طرح تیرے ساتھ تضحیک کی اور تیری ہتک کے مرتکب ہوئے اب اگر تو شریف آدمی ہے تو تجھے چاہئے کہ ان سے بدلے لے۔اور ان سے بدلہ لینے کا اچھا طریق یہ ہے کہ اب تو ایسے نیک عمل کر کہ جب تو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے لئے جا رہا ہو گا تو تو ہنس رہا ہو اور یہ لوگ رو رہے ہوں۔ہر انسان جو اپنی زندگی نیکی اور تقویٰ کے ساتھ گزارتا ہے وہ اپنی موت کے وقت خوش ہوتا ہے کہ اب میں اپنے پیدا کرنے والے کے پاس جا رہا ہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے مجھے انعام اور فضل حاصل ہونگے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنوں گا لیکن دنیا کے لوگ اس مرنے والے کو روتے ہیں کہ ہمارا محسن جو ہم سے نیک سلوک کرتا تھا اور مصیبتوں اور مشکلات میں ہمارے کام آتا تھا وہ ہم سے جدا ہو گیا اب اس کا قائم مقام کون ہو گا۔پس انسان کی زندگی میں جو اہم مواقع آتے ہیں ان میں سے سب سے اہم یہ دو موقعے ہیں۔ایک جس وقت وہ پیدا ہوتا ہے، دوسرا جس وقت وہ مرتا ہے۔اگر پیدا ہونے والا صحیح و سالم پیدا ہو تو یہ گھر والوں کے لئے ایک عید ہوتی ہے اور اگر مرنے والا کامیاب و کامران مرے تو یہ مرنے والے کے لئے ایک عید ہوتی ہے۔اور عید الاضحیہ مسلمانوں کے لئے پیدائش کی عید ہے جب کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں بکرے ذبح کرتے ہیں۔اور یہ قربانی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان بکروں کی طرح بوقت ضرورت ہم اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں گے اور کسی قسم کی قربانی سے خواہ