خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 404

م ۴۴۰ (۳۶) (فرموده ۲۹۔اگست ۱۹۴۶ء بمقام " راشمی" ڈلہوزی) - آج کا دن مسلمانوں میں عید کا دن کہلاتا ہے اور عید کے معنی ہیں وہ چیز جو بار بار دہرائی جائے چونکہ خوشی کی تقریبوں کے متعلق انسان خواہش کرتا ہے کہ وہ بار بار آئیں اس لئے بار بار لوٹ کر آنے والی خوشی کا نام عید رکھا گیا جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی خوشیاں بار بار دکھائے۔خوشی انسان کے دل سے تعلق رکھتی ہے اگر دل میں خوشی پیدا نہیں ہوتی تو ظاہری خوشی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔دنیا میں ہزاروں ہزار مسلمان آج ایسے ہونگے جو باوجود عید کے خوش نہیں ہونگے۔مسلمان اس وقت دنیا میں چالیس پچاس کروڑ کے قریب ہیں اور ان میں سے ہزاروں ہزار ایسے ہوں گے جن کے گھر آج رات کو موت ہو گئی ہو گی۔لہذا یہ عید ان کے لئے خوشی کی عید نہیں آج ان کی طبیعت افسردہ ہو گی۔جو مخلص ہیں وہ نماز کے لئے بھی جائیں گے لیکن دلوں کی افسردگی اس اجتماع کی وجہ سے دور نہیں ہوگی اگر ان کی آنکھوں سے آنسو نہ بہتے ہوں گے تو دل سے خون کے قطرے ضرور گرتے ہوں گے لیکن ایسے لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگ عید کی خوشیاں مناتے ہیں۔آخر اس خوشی کی وجہ کیا ہے۔انسان کو یا تو اس لئے خوشی ہوتی ہے کہ اس کے گھر بچہ پیدا ہو، یا اس لئے خوشی ہوتی ہے کہ انسان کو کوئی دنیوی مقصد حاصل ہو جائے یا دینی مقصد حاصل ہو یا انسان کو اس لئے خوشی ہوتی ہے کہ اس کی دلی خواہش پوری ہو، یا اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کی دلی خواہش پوری ہونے والی ہو یا ان کو کوئی خوشی پہنچ گئی ہو یا اس کی قوم کو کوئی خوشی پہنچ گئی ، یا اس کے ہم مذہب لوگوں کو کوئی خوشی پہنچ گئی لیکن ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی لازماً عید کے دن مسلمانوں کو نہیں ملتی۔کیا عید کے موقع پر ہر مسلمان کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ خوش ہوتا ہے کیا عید کے موقع پر ہر مسلمان اس لئے خوش ہوتا ہے کہ اس کی شادی ہوتی ہے ، یا ہر مسلمان کوئی اہم مقدمہ جیتتا ہے اس لئے وہ خوش ہوتا ہے یا ہر مسلمان کو کوئی جاگیر مل جاتی ہے اس لئے وہ عید کے موقع پر خوش ہوتا ہے، یا کوئی خزانہ ملتا ہے یہی چیزیں ہیں جن سے انسان کو خوشی پہنچتی