خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 387

۳۸۷ ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ قاتل کو بھی اپنے آپ سزا نہ دینی چاہئے بلکہ عدالت کے ذریعہ اسے سزا دلوانی چاہئے۔قاتل کو خود قتل کرنا جائز نہیں ملا لیکن آپ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کر دیتا تو ضروری ہے مگر اس قتل سے مراد خوش کشی نہیں۔خود کشی کو تو اسلام نے ناجائز قرار دیا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے علم کو اپنے مالوں کو اور اپنے اوقات کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ سو آدمی اپنے گلوں پر خنجر پھیر لیں تو اس سے اسلام کو طاقت حاصل ہو جائے گی تو یہ ایک پاگل پن کی بات ہے اور بے دینی ہے۔دین کے لئے قربانی کے یہ معنی نہیں کہ اپنے گلے کاٹ لئے جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے لئے موت کی جو راہیں اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تجویز کی ہیں اسے اختیار کیا جائے اور ان راہوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے اموال دین کے لئے خرچ کئے جائیں۔۱۴ مگر دیکھ لو ابھی جماعت میں کتنے لوگ ہیں جو اس راہ میں کو تاہی کرتے ہیں اور بہانے بنا کر پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔اس زمانہ میں اگر کوئی شخص مالی قربانی کرنے سے گریز کرتا ہے تو اس کا خنجر سے اپنا گلا کاٹ لینا اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اسی طرح ایک اور راہ قربانی کی تبلیغ ہے۔ایک انسان اپنے آپ کو ہمہ تن تبلیغ میں لگا کر بھی دین کے لئے موت قبول کر سکتا ہے۔دن میں یا رات میں اپنی ڈیوٹی سے تھکا ہوا جب فارغ ہو کر آتا ہے تو اسے خدا تعالی کا حکم ملتا ہے کہ دین اسلام بے کس ہے ، مشکلات میں ہے اس لئے تبلیغ کرو۔اگر تو وہ کہتا ہے کہ میں تو اب تھکا ہوا آیا ہوں کچھ وقت مجھے اپنے بیوی بچوں کے پاس بھی گزار نا لازمی ہے مجھے آرام بھی کرنا چاہئے اور اس واسطے وہ تبلیغ نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی جان کی قربانی کرنے سے گریز کرتا ہے۔یا مثلاً غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نوجوان آگے آئیں تو اگر تو جماعت سو دو سو یا ہزار دو ہزار جتنے بھی نوجوانوں کی ضرورت ہے پیش کر دیتی ہے تو گویا اس نے قربانی کا حق ادا کر دیا۔لیکن اگر ضرورت پوری نہیں ہوتی تو ساری جماعت گنگار ہوگی کیونکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جماعت قربانی کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح اور بھی بیسیوں صورتیں جائز رنگ میں دین کے لئے موت قبول کرنے کی ہیں اور ان صورتوں سے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے لگا دینا گویا اپنے لئے موت قبول کرنا ہے۔اسی طرح جو نوجوان اپنے آپ کو مروجہ مغربی فیشن کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں ٹائی اور سوٹ کے یک رنگ ہونے کی فکر میں وقت ضائع نہیں کرتے اور سادگی ہے