خطبات محمود (جلد 1) — Page 384
حاصل کرتا ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی خوشی ہے اور مومن دوزخ کے اظلال یعنی دنیوی تکالیف کو قبول کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ اسے جنت ملے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور اس کا خدا اس سے خوش ہو جائے۔لقمان کے متعلق آتا ہے کہ بچپن میں ڈاکو انہیں اٹھا کر لے گئے تھے اور بطور غلام فروخت کر دیا تھا۔ان کا آقا ان کی ہوشیاری، ذہانت اور تقویٰ کی وجہ سے ان کی بہت خاطر مدارات کیا کرتا تھا۔اس ملک میں خربوزوں کا موسم نہ تھا کسی دوسرے ملک سے ایک تجارتی قافلہ آ رہا تھا کہ اس کے کسی ملازم نے اس کے لئے بے موسم کا خربوزہ بھیجوایا۔جب وہ خربوزہ یا سردا اسے ملا تو اس نے اسے چیر کر ایک قاش لقمان کو دی اس لئے کہ وہ ان سے بہت پیار کرتا تھا اور وہ بچے بھی تھے۔لقمان نے اس قاش کو بہت مزے لے لے کر کھایا۔یہ دیکھ کر اس شخص نے ایک اور قاش دی۔آپ نے وہ بھی بہت مزے لے لے کر کھائی اور اس پر اس نے ایک تیسری قاش آپ کو دی اور آپ نے وہ بھی بڑے شوق سے کھائی۔اس پر اس شخص کو خیال آیا کہ میں بھی چکھوں اور اس نے ایک قاش اپنے لئے کائی مگر جب پہلا ہی لقمہ اس میں سے لیا تو اسے قے آنے لگی وہ سخت بدبودار تھی اور اس میں سے ہیکہ آرہی تھی اور سخت بد مزہ تھی۔اس پر اس نے لقمان کو ڈانٹا اور کہا کہ تمہیں تو میں یہ قاشیں مزے دار سمجھ کر دے رہا تھا نہ کہ دکھ میں ڈالنے کے لئے تم نے مجھے بتا کیوں نہ دیا کہ یہ ایسی خراب چیز ہے اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو دکھ میں کیوں ڈالا۔لقمان نے جواب دیا کہ میرے آقا! اس ہاتھ سے میں اتنی میٹھی قاشیں کھا چکا ہوں کہ بڑی بے حیائی ہوتی اگر میں ایک کڑوی قاش پر منہ بنانے لگتا۔وہ جہاں سچی محبت ہو وہاں بے شک میٹھی میٹھی اور کڑوی کڑوی تو لگتی ہے مگر ایمان ایک ایسی چیز ہے کہ جو کڑوی کو بھی میٹھی بنا دیتا ہے۔مومن کے سامنے صرف رضا الہی ہوتی ہے جنت یا دوزخ نہیں۔وہ اگر جنت میں جاتا ہے تو اس لئے کہ اس میں اس کے خدا کی رضا ہے۔جنت کے متعلق رسول کریم میں نے فرمایا ہے کہ لَا عَيْن رَأَتْ وَلَا أَذْنَّ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ - 1 یعنی اس کی نعمتیں ایسی ہوں گی کہ نہ کبھی انسانی آنکھ نے دیکھیں ، نہ کانوں نے ان کی تعریف سنی اور نہ ہی انسانی قلب میں ان کا خیال گذرا۔یہ اس جنت کی تعریف ہے جس کا مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔کہ اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالٰی قادر ہے ، اور وہ چاہے تو اس سے کروڑوں گنا بڑی جنت بھی بنا سکتا ہے لیکن اگر ایسی جنت بنا کر بھی وہ اپنے عاشقوں سے یہ کہتا کہ میری رضا تو اسی میں