خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 342

سوم ۳ اور دعاؤں کا موقع ملے گا۔پس ان کے لئے رمضان کا فاقہ کسی دکھ کا موجب نہیں بلکہ راحت اور آرام کا موجب ہوتا ہے اور انہیں رمضان کے ہر فاقہ میں رحمت کے خزانے پوشیدہ نظر آتے ہیں۔پس عید کے دن ہمارا خوش ہونا اس لئے نہیں ہوتا کہ رمضان گذر گیا بلکہ در حقیقت ہماری عید کی خوشی اس لئے ہوتی ہے کہ اس روز محمد رسول اللہ علی خوش ہوئے تھے۔پس یہ عید محمدملی یا لیلی کی خوشی کی یاد گار ہے اور عید الاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد گار ہے۔اب دیکھو کہ اس عید کے آنے پر کس طرح تمام دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور کس طرح مسلمان خواہ وہ مشرق میں رہتے ہوں یا مغرب میں اس دن کو مناتے ہیں اور یہ عید چند سالوں سے نہیں بلکہ ساڑھے تیرہ سو سال سے منائی جاتی ہے۔مگر ساڑھے تیرہ سو سال گذرنے کے باوجود اسی جوش اور اسی شوق کے ساتھ اس عید کو منایا جاتا ہے جس جوش اور جس شوق کے ساتھ شروع میں اس عید کو منایا گیا تھا اور اس ایک دن کی خوشی لانے کے لئے مسلمان تھیں دن کے روزے رکھتے اور مسلسل تمہیں دن اللہ تعالیٰ کے لئے فاقہ کرتے ہیں محض اس لئے کہ انہیں وہ خوشی حاصل ہو جو محمد مالی کو اس روز حاصل ہوئی تھی اور محمدم ل ل ا ل لیلی کی خوشی اس لئے تھی کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ میری قوم خدا کے لئے فاقے برداشت کرنے اور خدا کے لئے اپنی نیند ترک کرنے اور خدا کے لئے اپنی نسل کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہے یہی نکتہ تھا جس کی وجہ سے محمد میں تم کو خوشی ہوئی۔آپ نے جب دیکھا کہ مسلمان خدا کے لئے تمہیں دن فاقہ برداشت کرتے رہے ہیں تھیں دن تک وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہے ہیں اور تمہیں دن تک وہ مشقت اور تکالیف برداشت کرتے رہے ہیں تو تمہیں دن کی اس قربانی کے بعد محمد ل کی خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی اور انہوں نے کہا کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ میرے ذریعہ اس نے ایک ایسی قوم تیار کر دی ہے جو خدا کے لئے فاقہ کرنے ، خدا کے لئے عبادتیں کرنے ، خدا کے لئے دعائیں کرنے اور خدا کے لئے اپنی نیند ترک کرنے کے لئے تیار ہے۔غرض خوشی کے وہ ایام جو مذاہب نے مقرر کئے ہیں ان کو آج تک ہزاروں سال گذرنے کے باوجود بڑے جوش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔مگر جو ایام قومیں یا حکومتیں مقرر کرتی ہیں وہ چند سالوں میں ہی اپنی تمام دلکشی کھو بیٹھتے ہیں۔عیسائیوں میں ہی جو نہ ہی عیدیں مقرر ہیں وہ ہر گوشہ عالم میں بڑے جوش سے منائی جاتی ہیں۔ان کے لئے لنڈن کی ضرورت نہیں،