خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 341

۳۴۱ ہو ا تھا۔گو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے بعض لوگوں کے لئے رمضان ایسا ہی آتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے خوید ۲۴ ہوتی ہے وہ بھی ان دنوں خوب گھی استعمال کرتے اور قسم قسم کے مرغن کھانے کھاتے ہیں۔سحری اور افطاری کا خاص طور پر انتظام کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رمضان تو لوگوں کو دبلا کرنے کے لئے آتا ہے مگر وہ رمضان کے بعد پہلے سے بھی زیادہ موٹے ہو جاتے ہیں اور کئی لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو روزہ تو نہیں رکھتے مگر افطاری ضرور کرتے ہیں۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک لونڈی تھی جو سحری کے وقت ضرور اٹھا کرتی تھی مگر روزہ نہیں رکھتی تھی۔ایک دن اس کی مالکہ نے اسے کہا کہ لڑکی! تو اپنی نیند کیوں خراب کرتی ہے جب تو نے روزہ نہیں رکھنا ہو تا تو سحری کے وقت اٹھنے کا کیا فائدہ؟ وہ کہنے لگی بی بی نماز میں نہیں پڑھتی ، روزہ میں نہیں رکھتی اب سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔گویا شریعت کے تین ارکان ہیں۔نماز روزہ اور سحری۔بچوں کو دیکھا جائے تو وہ بھی سحری کے وقت ضرور اُٹھتے ہیں مگر دن بھر انہیں روزہ کا خیال تک نہیں آتا۔تو رمضان بھی آسوده حال لوگوں کے لئے خوید بن جاتا ہے اور وہ اس قدر مرغن غذائیں ان دنوں استعمال کرتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی عید کے دن وہ خاص خوشی محسوس کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک اور طبقہ ہے جس کے لئے رمضان اور عید دونوں یکساں ہوتے ہیں۔رمضان میں بھی انہیں روٹی نہیں ملتی اور عید کے دن بھی انہیں روٹی نہیں ملتی۔صرف ایک چھوٹا سا طبقہ ایسے لوگوں کا رہ جاتا ہے جو صحیح طریق پر روزے رکھتے ہیں اور پھر ان کے ختم ہونے پر اس وجہ سے کہ تکلیف کے دن جاتے رہے وہ راحت اور آرام محسوس کرتے ہیں اور بچے ایماندار تو پھر ان میں اور بھی کم ہوتے ہیں مگر ان کے لئے رمضان کا جانا کسی خوشی کا موجب نہیں بلکہ رنج کا موجب ہوتا ہے۔اگر صرف رمضان کے گذرنے کا سوال ہو تا تو بچے مومن اس دن خوش ہونے کی بجائے غمگین ہوتے مگر وہ صرف اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ رسول کریم ملی لی ہے اس دن خوش ہوئے تھے۔ورنہ ہم نے تو دیکھا ہے رمضان کے ختم ہونے پر بہت لوگ حسرت کے ساتھ آہیں بھر کر کہتے ہیں کہ بڑی برکتوں کے دن تھے جو چلے گئے اب کوئی خوش نصیب ہی ہوں گے جو اگلے سال پھر رمضان پائین گے اور پھر انہیں خاص عبادت