خطبات محمود (جلد 1) — Page 340
۳۴۰ میں تمہیں کہوں گا کہ روشنی ذرا تیز کرو اور تم اس وقت روشنی ٹھیک کرنے کے بہانہ سے اٹھ کر چراغ کو گل کر دیتا۔اس پر میں کہوں گا کہ اب تو اندھیرا ہو گیا اور یہ ٹھیک نہیں اس لئے کسی ہمسایہ کے گھر جا کر آگ جلا لاؤ اور تم یہ جواب دے دیتا کہ اس وقت ہمسائے سو چکے ہیں انہیں تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیا جائے۔مہمان بھی کہے گا کہ تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیتے ہیں۔اس پر اندھیرے میں ہم اس کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اور منہ ہلا کر کھانا کھانے کی آواز نکالتے جائیں گے وہ سمجھے گا کہ ہم اس کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔چانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔عورت نے بچوں کو دلاسہ دے کر بھو کا سُلا دیا اور جب مہمان کے ساتھ میاں بیوی کھانا کھانے بیٹھے تو میاں اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ ذرا روشنی تیز کر دو۔ان دنوں مٹی کے دیئے ہوا کرتے تھے اس نے روشنی ٹھیک کرنے کے بہانہ سے اٹھ کر چراغ کو گل کر دیا اور اندھیرا ہو گیا۔وہ صحابی کہنے لگے اب کسی ہمسایہ کے گھر جا کر آگ مانگ لاؤ۔وہ کہنے لگی ہمسائے سب سو چکے ہیں اب میں کہاں سے روشنی لاؤں۔اندھیرے میں ہی کھانا کھالو۔مہمان بھی کہنے لگا تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیتے ہیں۔چنانچہ اندھیرے میں ہی کھانا کھانا شروع کر دیا گیا۔اور وہ دونوں اس کے ساتھ بیٹھ کر خالی منہ ہلا ہلا کر کھانے کی آواز پیدا کرنے لگے۔مہمان یہ خیال کرتا رہا کہ وہ بھی ساتھ ہی کھانا کھا رہے ہیں مگر دراصل وہ کچھ کھا نہیں رہے تھے۔جب صبح ہوئی تو صحابی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں گئے۔نماز کے بعد رسول کریم میم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا آج خدا نے عرش سے مجھے ایک بات بتائی ہے۔پھر اس کے بعد آپ نے ہی تمام واقعہ سنایا کہ کس طرح ایک شخص رات کو ایک مہمان اپنے ہاں لے گیا اور اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کرنے کے بعد بچوں کو بھو کا سُلا دیا، روشنی گل کر دی اور خود اس کے ساتھ بیٹھ کر خالی منہ ہلا ہلا کر کھانے کی آواز نکالتے رہے۔یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد آپ زور سے ہنسے قہقہہ مار کر نہیں کیونکہ قہقہہ مارنا آپ کی عادت نہیں تھی ۲۲ بلکہ نسبتا کچھ بلند آواز سے۔پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا تم جانتے ہو میں کیوں ہنسا ہوں۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمیں تو معلوم نہیں۔آپ نے فرمایا خدا اس واقعہ کو دیکھ کر عرش پر ہنسا اس لئے میں بھی اس واقعہ پر ہنس پڑا۔۲۳ یہی حال اس دن مسلمانوں کا ہوتا ہے ان کی خوشی بھی اس دن کھانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس لئے ہوتی ہے کہ ان کا آقا اور محبوب محمد رسول اللہ علی ال اس دن خوش