خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 334

۳۳۴ کی تاریخ تک محفوظ نہیں اور ایسے ملک میں مبعوث ہوا جہاں کے رہنے والوں کو اگر وہ سمندر پار جاتے تو دھرم سے خارج کر دیا جاتا تھا اور خشکی کے ذریعہ بھی اگر کوئی ہندوستان سے باہر جاتا تو اسے بے دین سمجھا جاتا تھا۔اس کے بعد اسے بڑی بڑی عبادتیں کرنی پڑتی تھیں اور بڑے بڑے حر جانے ادا کرنے پڑتے تھے تب اسے قوم میں داخل کیا جاتا تھا۔۵، گویا اپنے ملک کے اندر ہی محدود رہنے والی ایک قوم جس کا غیر ممالک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اس کے ایک چھوٹے سے واقعہ کو صرف اس وجہ سے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور اور مرسل کے ساتھ پیش آیا۔خدا تعالیٰ نے ہزارہا سال سے قائم کیا ہوا ہے اور زمانہ اس یادگار کو مٹا نہیں سکا حالانکہ رامچند رجی کے ساتھ اس وقت لاکھوں یا کروڑوں آدمی نہیں تھے۔ان کا باپ ایک چھوٹی سی ریاست کا راجہ تھا۔ہ پر ان کے ساتھ کسی واقعہ کا پیش آنا ایسا ہی تھا جیسے کپور تھلہ یا اس سے کم درجہ کی کسی ریاست کے راجہ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آ جائے مگر صرف اس لئے کہ وہ انسان خدا تعالیٰ کا پیارا تھا اور خدا تعالیٰ سے کامل تعلق رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی کامیابی اور فتح کو جو پیشگوئیوں کے ماتحت تھی اتنا عظیم الشان نشان بنا دیا کہ اس فتح کے ہزاروں سال بعد آج جب کہ ہندوستان کی ۳۸ کروڑ آبادی میں سے ۲۰ کروڑ سے زیادہ ہندو ہیں وہ ہیں کروڑ کی تمام آبادی اس روز ایسی خوشیاں مناتی ہے کہ شاید اپنے بیٹے کی پیدائش اور شادی بھی کسی نے ایسی خوشی نہیں منائی ہو گی۔اب دیکھو کجا دو ہزار سال سے زائد عرصہ کا ایک واقعہ جس کا لوگوں کے قلوب پر اتنا عظیم الشان اثر ہے کہ آج بھی اس واقعہ کی یادگار میں ہر ہندو گھر میں خوشی منائی جاتی ہے اور کجایہ حالت کہ دنیا میں ایک بہت بڑی جنگ لڑی جاتی ہے اور اس میں تمام حکومتیں حصہ لیتی ہیں مگر وہ ساری حکومتیں مل کر بھی اس کی یادگار میں لوگوں کو دو منٹ خاموش نہیں کرا سکتیں کیسا عظیم الشان فرق ہے اور خدا کے فعل اور بندے کے فعل میں کتنا نمایاں امتیاز نظر آتا ہے۔پھر اس واقعہ کے ساتھ ہی ایک اور عظیم الشان واقعہ مجھے یاد آیا جو دشمنوں کے مقابلہ میں رامچندرجی کی فتح سے بھی زیادہ شاندار ہے۔رام چندر جی کی فتح کا نشان تو اس لئے مقرر کیا گیا تھا کہ خدا کا ایک مامور اور مرسل اپنے گھر سے نکال دیا گیا تھا، وطن سے بے وطن کر دیا گیا تھا مگر پھر خدا اسے فاتح اور کامیاب کر کے