خطبات محمود (جلد 1) — Page 333
۳۳ 2 الله اسی لڑائی میں شروع ہوا۔ٹینک اس لڑائی میں بننے شروع ہوئے جو فوجوں کی فوجوں کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔پھر اسی جنگ میں ٹرنچز کی لڑائی ایسی اہم صورت اختیار کر گئی کہ زمین کے اندر وہ ہی اندر میلوں تک شہر بسے ہوئے ہوتے تھے۔پھر یہ وہ جنگ تھی جس میں دو کروڑ آدمی بیک وقت شامل تھا۔رام چندرجی کے زمانے میں تو ہندوستان اور لنکا کی ساری آبادی بھی دو کروڑ نہ ہو گی مگر یہ وہ لڑائی تھی جس میں صرف دو کروڑ سپاہی شامل تھا اور زخمی اور مرنے والوں کی تعداد ساٹھ لاکھ تھی۔رام چندرجی کی لڑائی کے جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے اگر مبالغہ آمیز قصوں کو نکال دیا جائے تو مرنے والوں کی تعداد چھ سو سے زیادہ نہیں ہوگی مگریہ و جنگ تھی جس میں ساٹھ لاکھ آدمی کام آئے۔اس عظیم الشان لڑائی کی یاد منانے کے لئے بھی دنیا نے 11۔نومبر کا دن کہ مقرر کیا تھا۔مگر ا۔نومبر کا دن جس طرح سونا گذر جاتا ہے وہ لوگوں کی سے مخفی نہیں۔ہندوستان کو جانے دو انگلستان جہاں گورنمنٹ اس دن کو تکلف سے مناتی ہے وہاں بھی لندن والوں کے سوا دیہات کے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔پانچ سات سال تک تو اس دن کو خوب جوش سے منایا گیا تھا اور سمجھا گیا تھا کہ یہ ہمیشہ کے لئے ایک قومی تہوار بن جائے گا مگر اب اس دن کے ساتھ لوگوں کی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔امریکہ جو خود لڑائی میں شامل تھا وہاں تو لوگوں کو خیال بھی نہیں آتا کہ یہ دن کب آیا اور کب گذر گیا۔ہندوستان میں اس دن صرف دو منٹ خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ گورنمنٹ جانتی ہے اگر زیادہ وقت خاموش رہنے کے لئے کہا گیا تو کوئی مانے گا نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ سال میں سے صرف ایک دن اور وہ بھی صرف دو منٹ خاموش رہنا ہوتا ہے پھر بھی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں یہ معلوم ہی نہیں ہو تا کہ وہ دو منٹ کب آئے اور کب گزر گئے۔پہلے انہیں پتہ لگتا ہے کہ ابھی خاموش ہونے میں پانچ منٹ باقی ہیں اور پھر گھڑی دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دو منٹ پر پانچ اور منٹ گزر چکے ہیں اس طرح ان کے دو منٹ کبھی آتے ہی یہ جنگ ۱۹۱۸ء میں ختم ہوئی تھی کہ اور اب ۱۹۴۱ء ہے گویا اس یاد گار کو قائم ہوئے ابھی صرف ۲۳ سال ہوئے ہیں مگر اس ۲۳ سال کے اندر اندر یہ تحریک اپنی ساری طاقت اور دلکشی کھو بیٹھی ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا ایک مامور اور مرسل ایسے تاریک زمانہ میں پیدا ہوا جس