خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 281

۲۸۱ ہو۔یہ تڑپ ہر احمدی کے دل میں پائی جائے گی کہ مجھے ترقی اور کامیابی حاصل ہو مگر یہ تڑپ بہت کم احمدیوں کے دلوں میں پائی جائے گی کہ میری قوم کو ترقی اور کامیابی حاصل ہو سوائے علماء و عارفین کے مگر ان علماء و عارفین سے میری مراد جسمانی عالم نہیں بلکہ روحانی عالم ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی قومی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے افراد بہانے بنانے لگ جاتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالٰی نے قومی عبادات کے متعلق فردی تکلیفوں کی ذرہ بھی پروا نہیں کی۔چنانچہ دیکھ لو فردی نوافل جب جی چاہے انسان پڑھ سکتا ہے چاہے دن میں پڑھے یا رات کو پڑھے مگر جو نمازوں کے اوقات ہیں ان میں ہر ایک کو قربانی کرنی پڑتی ہے۔مثلاً ظہر کے وقت ہر ایک کو بلایا جاتا ہے۔جنہیں اس وقت زیادہ سے زیادہ کام ہوتا ہے انہیں بھی اور جنہیں تھوڑا کام ہوتا ہے انہیں بھی۔اس وقت کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کام زیادہ ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کہتا ہے آؤ اور نماز باجماعت پڑھو اور اپنے کام کا نقصان کرو۔تو قومی عبادتوں میں ہمیشہ افراد کو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں اور ان کی تکلیفوں کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ہمارے ملک کا ایک تاریخی واقعہ ہے کہ شاہ جہان کی بیوی ممتاز محل نے خواب میں دیکھا کہ وہ مرگئی ہے اور فرشتے اس کی قبر پر ایک شاندار عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔اس نے بیدار ہونے پر بادشاہ سے ذکر کیا اور بادشاہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس کی قبر پر ویسی ہی شاندار عمارت بنائے گا۔جب وہ مرگئی تو جس قسم کی عمارت کا اس نے بادشاہ سے ذکر کیا تھا اس قسم کی عمارت تیار کرنے کے لئے بادشاہ نے انجنیئروں کو بلایا۔مگر ہر انجنیر نے یہی کہا کہ اس قسم کی عمارت بنی ناممکن ہے۔آخر ایک انجنیر ایران سے آیا اور اس نے کہا میں اس قسم کی عمارت بنانے کے لئے تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ آپ دو لاکھ روپیہ کی تھیلیاں لے کر کشتی میں میرے ساتھ بیٹھ جائیں اور جمنا کے دوسرے کنارے پر چلیں اور مجھے وہ مقام دکھائیں جہاں آپ مقبرہ بنانا چاہتے ہیں۔چنانچہ بادشاہ نے ہزار ہزار روپیہ کی دو سو تھیلیاں بھروا کر ساتھ رکھ لیں اور کشتی میں وہ اور انجنیر سوار ہو گئے۔ابھی تھوڑی دور ہی کشتی گئی تھی کہ انجنیئر نے ایک تھیلی اٹھائی اور پانی میں یہ کہتے ہوئے ڈبو دی کہ بادشاہ سلامت! یوں روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی پروا نہیں مقبرہ بننا چاہئے۔پھر دو گز کشتی آگے چلی تو اس نے دوسری تھیلی اٹھا کر دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت! یوں روپیہ غرق ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی پروا نہیں مقبرہ بنا چاہئے۔یہاں تک کہ اسی طرح اس نے دو سو تھیلیاں دریا میں غرق کر دیں مگر بادشاہ کے ماتھے پر ذرا بھی بل نہ آیا۔جب کشتی