خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 278

۲۷۸ ہچکچاتے ہو۔اس کے علاوہ تم میں اور ان میں ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تم امید رکھتے ہو کہ جب ہم مریں گے تو جنت میں جائیں گے مگر تمہارا دشمن سمجھتا ہے کہ ہم مریں گے تو مٹی ہو جائیں گے۔پس تمہاری قربانی تمہارے یقین کے مطابق ضائع نہیں گئی صرف یہ فرق ہوا کہ تمہاری عید اس جہان میں نہ ہوئی اگلے جہان میں ہو جائے گی۔تو مومن قربانی میں بہت زیادہ دلیر ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اپنے آپ کو فنا کر دیا اور مجھے عید اس جہان میں نہ ملی تو اگلے جہان میں مل جائے گی لیکن کافر سمجھتا ہے کہ اگر مجھے اس جہان میں عید نہ ملی تو پھر کہیں بھی نہیں ملے گی۔غرض یہ ایک بھاری سبق ہے ؟ رمضان سے حاصل ہوتا ہے۔تمام مسلمان رمضان کے مہینہ میں روزے رکھتے ہیں مگر کئی ہیں جو روزوں میں ہی مرجاتے ہیں اور عید کو نہیں دیکھ سکتے۔یہ مت خیال کرو کہ عید کے لئے کون روزے رکھتا ہے کیونکہ میں جب عید کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے یہ کپڑوں اور کھانوں والی عید مراد نہیں ہوتی۔اگر عید سے یہی عید مراد ہو تو کوئی اس عید کے لئے ایک دن کا بھی روزہ نہ رکھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظاہری عید وہ لوگ زیادہ مناتے ہیں جو روزے نہیں رکھتے۔ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے جو دراصل ایسے ہی لوگوں کے متعلق ہے جو قربانی نہیں کرتے مگر انعام میں شامل ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی لڑکی تھی جو روزے نہیں رکھتی تھی مگر سحری ضرور کھا لیا کرتی تھی۔ایک دن اس کی مالکہ نے اسے کہا کہ تو خواہ مخواہ اپنی نیند کیوں خراب کرتی ہے۔جب تو روزہ نہیں رکھتی تو سحری کیوں کھاتی ہے۔وہ کہنے لگی ، بی بی نماز میں نہیں پڑھتی ، روزہ میں نہیں رکھتی اب میں سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔یہ ہے تو بظاہر ہنسی کی بات مگر حقیقتاً کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رمضان کے روزے نہیں رکھتے، جو نمازیں نہیں پڑھتے مگر عید کے لئے سب سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔گویا عملا وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم روزے بھی نہیں رکھتے، نمازیں بھی نہیں پڑھتے اب عید بھی نہ منائیں تو کافر ہی ہو جائیں۔ان کے نزدیک ساری عبادت عید میں ہی ہے۔پس روزہ دار اس عید کے لئے روزے نہیں رکھتا۔روزہ دار جس عید کے لئے قربانی کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام دنیا میں قائم ہو جائے روحانیت دنیا میں قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم ہو جائے۔تم کہہ سکتے ہو کہ روزہ دار روزے اپنے لئے رکھتا ہے دنیا کے لئے نہیں رکھتا پھر اس کے روزوں کی یہ غرض کیونکر ہو سکتی ہے کہ دنیا میں اسلام اور روحانیت قائم ہو جائے۔مگر میں کہتا ہوں اگر یہ