خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 27

۲۷ (۵) فرموده ۲- اگست ۱۹۱۶ء بمقام عید گاه - قادیان) قُلْ يَاَيُّهَا النَّاسُ إِنّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا إِلَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّنِ الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - لَ عید یعنی خوشی کا دن۔چونکہ خوشی کے دن کی نسبت سب انسان یہ امید رکھتے ہیں کہ بار بار آئے اس لئے اس کا نام عید رکھا گیا ہے ۲۔عید کیا چیز ہے اور خوشی کسے کہتے ہیں۔اس پر اگر غور کیا جائے تو ایک ادنی سے غور اور فکر سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خوشی اصل میں اجتماع کا نام ہے۔دنیا کی جس قدر بھی خوشیاں ہیں وہ سب اجتماع سے پیدا ہوتی ہیں۔بڑی سے بڑی خوشی شادی کی ہوتی ہے لیکن وہ کیا ہے یہی کہ ایک عورت اور ایک مرد مل جاتے ہیں اور ان کا اجتماع ہو جاتا ہے۔پھر بچوں کے پیدا ہونے کی خوشی ہوتی ہے۔وہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک نئی روح آکر ان میں شامل ہو جاتی ہے۔تو خوشی کی اصل یہ ہے کہ کوئی چیز جب باہر سے آکر دوسری سے ملتی ہے تو اسے خوشی کہا جاتا ہے اور جب ایک چیز دوسری چیز سے جُدا ہوتی ہے تو اسے رنج کہتے ہیں۔دنیا میں جس قدر بھی اجتماع ہوتے ہیں وہ سب خوشیوں ہی کا موجب ہوتے ہیں اور خوشی کے اظہار کا طریق ہی یہی ہے کہ اجتماع ہو۔دیکھو میلوں پر جو لوگ جمع ہوتے ہیں وہ اسی لئے ہوتے ہیں کہ خوشی کریں۔کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی شخص چھپتا پھرے ، کسی کے پاس نہ بیٹھے ، اکیلا جنگل میں چلا جائے اور جب کوئی پوچھے کہ اس طرح کیوں کرتے ہو تو کہے کہ آج میرے لئے عید ہے۔کسی ملک کسی علاقہ اور کسی قوم میں ایسی عید نہیں ہو گی کہ اس دن ایک۔دوسرے سے چُھپتے بھاگتے اور علیحدہ پھرتے ہوں بلکہ ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم میں عید کی علامت ہی یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے اور ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔اور جو لوگ اپنے غم و اندوہ کو بڑھانا چاہتے ہیں ان کا یہ طریق ہوتا ہے کہ دوسروں سے علیحدہ رہتے ہیں لیکن جو غم غلط کرنا چاہتے ہیں وہ مجلسوں میں بیٹھتے اور لوگوں سے ملتے جلتے ہیں۔بعض انسان