خطبات محمود (جلد 1) — Page 235
۲۳۵ (۲۴) ( فرموده ۷۔جنوری ۱۹۳۵ء بمقام عید گاہ۔قادیان) عید کا دن خوشی کا دن کہلاتا ہے اور صحابہ کے طریق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عید کے روز آپس میں کثرت سے ملا کرتے تھے۔ا ہمارے ملک کا عام دستور بھی یہی ہے کہ عید میں تمام لوگ باہم ملتے ہیں حتی کہ ہماری زبان کا ایک محاورہ ہو گیا ہے کہ آؤ عید مل لیں۔تو عید نشان ہے در حقیقت مل جانے کا اور اتحاد کا لیکن ایک جگہ پر مل کر بیٹھ جانا حقیقی اتحاد نہیں کہلا سکتا۔جو لوگ ایک دوسرے کے دشمن بلکہ جان کے بیری ہوتے ہیں وہ بھی کبھی ریل میں کبھی ٹریم سے میں ، کبھی موٹر میں کبھی لاری میں مل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ایک دوسرے کی شکل سے متنفر طالب علم ایک کلاس روم میں اور ایک جماعت میں مل کر بیٹھتے ہیں۔افسر ماتحت کا دشمن ہوتا ہے اور ماتحت افسر کا مگر پھر بھی انہیں ایک دفتر میں بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔افسر چاہتا ہے کہ ماتحت کو نقصان پہنچائے اور ماتحت چاہتا ہے کہ افسر کو ضعف پہنچائے لیکن ظاہر میں وہ بالکل ایک ہوتے ہیں۔پس کسی گروہ کا اکٹھے مل بیٹھنا اتحاد کی علامت نہیں۔اتحاد تبھی پیدا ہوتا ہے جب دل ایک نقطہ مرکزی پر جمع ہو جائیں۔اگر دل نقطه مرکزی پر جمع نہیں ، اگر خیالات میں اتفاق نہیں ، اگر دلوں میں محبت اور یک جہتی نہیں تو بظاہر مل کر بیٹھنا کوئی نفع نہیں دے سکتا۔انبیاء جو دنیا میں آتے ہیں ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایک کر جائیں اور اس وجہ سے ان کا زمانہ عید ہوتا ہے۔دنیا میں حقیقی عید صرف ان کے ذریعہ ہی میسر آتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ملی و و و و و ویو کے دشمنوں کی نسبت فرماتا ہے کہ بظاہر یہ لوگ متحد و متفق نظر آتے ہیں مگر قُلُوبُهُمْ شَتَّی ۳ ان کے دل ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ان کے مقابلہ میں مسلمان ایک جسم نہیں مگر اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ کے خدا نے ان کے دلوں کو ایک کر دیا ہے۔تو کفار کا جتھا بھی در حقیقت پراگندہ ہے اور مومنوں کے گروہ بھی دراصل ایک چیز ہے یہی چیز ہے جس کی وجہ سے انبیاء کی بعثت دنیا کے لئے رحمت قرار پاتی ہے۔عربوں کے اندر بہت پرانی عداوتیں اور جنگیں تھیں۔معمولی معمولی بات پر صدیوں تک لڑائیاں جاری رہتیں اور