خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 21

۲۱ نہیں ہو سکتا کہ اس دن خدا اس پر راضی ہو جائے۔یاد رکھو! انبیاء کی ہر روز عید ہوتی ہے دنیا کی کوئی تکلیف انہیں غمگین نہیں کر سکتی اور کوئی رنج ان کی کمر نہیں توڑ سکتا۔اللہ تعالی آنحضرت میں عوام کی نسبت فرماتا ہے۔وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِی انْقَضَ ظَهْرَگ کے ہر ایک انسان پر خصوصاً کام کرنے والے انسان پر اور پھر خصوصا مصلح پر بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے۔خواہ وہ مصلح دنیا کا ہو یا دین کا۔کام اور فکر کی وجہ سے وہ چور ہو جاتا ہے۔چونکہ آنحضرت ملی م پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تیرا بوجھ اٹھا لیا۔کیوں؟ اس لئے کہ جب تو ہمارا مطیع و منقاد اور فرمانبردار ہو گیا تو پھر تجھ پر بوجھ کیوں رہنے دیا جاتا۔بوجھ تو واقعہ میں ایسا تھا کہ تیری کمر توڑ دیتا اور کوئی اسے اٹھا نہ سکتا تھا کیونکہ ایک گھر کا بوجھ اٹھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔لڑائی جھگڑا ہو تو لوگ۔پریشان ہو جاتے ہیں۔اب جو جنگ ہو رہی ہے اس کی وجہ سے تمام سلطنتوں کے وزراء گھبرا گئے ہیں کہ یہ کام بہت بڑھ گیا ہے اس لئے ان کی مدد گار کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔مگر آنحضرت میں وہ انسان تھے جو ایک جنگ چھیڑتے ہیں اور سارے جہان کے ساتھ چھیڑتے ہیں۔آپ صرف اکیلے اور تن تنہا ہیں جن کی نسبت وطن والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ گلا گھونٹ کر مار دیں گے لیکن آپ سارے جہان سے جنگ شروع کرتے ہیں۔عیسائیوں کو کہتے ہیں۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةٍ - - ہود کو کہتے ہیں ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذلة وَالْمَسْكَنَةُ : - مجوس کو کہتے ہیں کہ اللہ ہی نور اور ظلمت کو پیدا کرنے والا ہے کہ۔جو کچھ تم کہتے ہو غلط ہے۔مشرکین کو فرماتے ہیں۔اِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ ۸۔اور گناہ تو خدا تعالیٰ بخش دے گا لیکن جو کچھ تم کرتے ہو یہ ایسا گناہ ہے کہ کبھی نہ بخشا جائے گا۔غرض تمام دنیا کے مذاہب کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔اور وہ زمانہ کوئی امن کا زمانہ نہیں کہ آج کل کی طرح اپنے گھر بیٹھے جو جی میں آیا کسی کی نسبت کہہ دیا بلکہ ایسا زمانہ تھا کہ لوگ اپنے خلاف بات منکر تلوار اٹھا لیتے تھے اور آپس کی مخالفت کو تلوار کے ذریعہ مٹانا چاہتے تھے۔ایسے وقت میں آنحضرت لیلی دی او لیول کا تمام دنیا کے لوگوں کو علی الاعلان یہ کہنا کہ تم غلطی پر ہو اور تمہارے پاس حق نہیں ہے ساری دنیا سے جنگ چھیڑنا ہے۔پھر یہ جنگ ایک دن نہیں ، دو دن نہیں ، تین دن نہیں بلکہ متواتر ۲۳ سال ہوتی رہتی ہے۔باوجود اس کے آپ کو دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی ساری عمر میں کبھی آنحضرت ملی ایم کے چہرہ مبارک